کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صدیقیہ مسجد تبلیغی مرکز کوئٹہ از سرِ نوزیر تعمیر ہے، اکثر حصہ تعمیر ہو چکا ہے مرکزی عمارت تہہ خانہ، زمینی منزل اور ایک اوپری منزل پر مشتمل ہے، اور مسجد ان تمام حصوں میں موجود ہے ۔مرکز میں گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے تہہ خانہ میں دو جگہیں متعین کی گئی ہیں ایک جنوب کی جانب یعنی جان محمد روڈ کی طرف اور ایک شمال کی جانب یعنی کو اری روڈ کی طرف ،شمال کی پارکنگ ایک بڑی سڑک یعنی کواری روڈ کی طرف کھلتی ہے جس سے رش کے باوجود گاڑیوں کی با آسانی آمدورفت ممکن ہے، جبکہ جنوب کی پارکنگ ایک گنجان کمرشل روڈ / رہائشی علاقے کی طرف کھلتی ہے جہاں دکانوں اور ریڑھیوں کے مستقل کھڑے ہونے سے اکثر اوقات ٹریفک شدید جام ہوجاتا ہے جو بہت دیر بعد کھلتا ہے جس سے علاقے والے اور تبلیغی جماعتوں کو مستقل تکلیف کا سامنا ہے ، حل اس مسئلہ کا یہ ہے کہ جنوب کی پارکنگ کو صرف تہہ خانے کی حد تک شمال کی پارکنگ سے جوڑ دیا جائے جس سے گاڑیوں کی شمال کے راستے سے با آسانی بڑی سٹرک کواری روڈ سے آمدو رفت ہوسکے، یہ رخصت ملنے کی صورت میں دونوں طرف کے راستے حسب ضرورت استعمال ہو سکتے ہیں ، اور خلق خدا کو بڑی راحت ہوگی، اس طریقہ سے مسئلہ کا حل کسی حدتک ممکن ہے مگر اس میں ایک شرعی مسئلہ در پیش ہے کہ دونوں پار کنگ کو جوڑنے کے لیے صرف تہہ خانہ سے راستہ بنانے کے لیے کچھ حصہ مسجد کا بھی استعمال کرنا پڑے گا،اب رش اور ٹریفک بندش ( جام ) کا مسئلہ بہت شدت اختیار کر چکا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گھمبیرہوتا جارہا ہے اس کے علاوہ کوئی اور حل ممکن نہیں ہے کیونکہ بظاہر کوئی اور متبادل بھی موجود نہیں۔
لہذا یافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا رفاہ ِعامہ کی حاجتِ شدیدہ کے لئے مسجد کے تہہ خانے کا کچھ حصہ بطورِ گاڑیوں کے راستہ کے مستقل طور پر استعمال کرنے کی شرعا کوئی گنجائش ہے؟
آخری درجے میں یہ بات دریافت طلب ہے کہ اگر مستقل طور پر راستے کی گنجائش نہیں ہے تو سال کے کچھ دنوں میں ضرورتِ شدیدہ کے تحت (یعنی بڑے جو ڑ اور بڑے جمِ غفیر و ازدحام کی صورت میں ) گاڑیوں کے گزرنے کی گنجائش ہے یا نہیں ؟
فتاوی شامیہ کی عبارت میں مسجد سے مجبوری کے وقت راستہ نکالنے کی گنجائش دی گئی ہے۔
الدر المختار مع رد الحتار (377,378/4) مط: سعيد
(جعل شيء) أي جعل الباني شيئا (من الطريق مسجدا) لضيقه ولم يضر بالمارين (جاز) لأنهما للمسلمين (کعکسہ) أي کجو از عكس وهو ما إذا جعل في المسجد ممر لتعارف أھل الأمصار فی الجوامع الجوامع وجاز لكل أحد ان یمر فیہ حتی الکافر إلا الجنب والحائض والدواب زیلعی (کما جاز جعل) الإمام (الطریق مسجداً لاعکسہ) (قوله لا عكسه) يعني لا يجوز أن يتخذ المسجد طريقا وفيه نوع مدافعة لما تقدم إلا بالنظر للبعض والكل شرنبلالية، قلت: إن المصنف قد تابع صاحب الدرر مع أنه في جامع الفصولين نقل أولا جعل من المسجد طريقا ومن الطريق مسجدا جاز ثم رمز لكتاب آخر، لو جعل الطريق مسجدا يجوز لا جعل المسجد طريقا لأنه لا تجوز الصلاة في الطريق فجاز جعله مسجدا، ولا يجوز المرور في المسجد فلم يجز جعله طريقا اهـ ولا يخفى أن المتبادر أنهما قولان في جعل المسجد طريقا بقرينة التعليل المذكور، ويؤيده ما في التتارخانية عن فتاوى أبي الليث، وإن أراد أهل المحلة أن يجعلوا شيئا من المسجد طريقا للمسلمين فقد قيل ليس لهم ذلك وأنه صحيح، ثم نقل عن العتابية عن خواهر زاده إذا كان الطريق ضيقا والمسجد واسعا لا يحتاجون إلى بعضه تجوز الزيادة في الطريق من المسجد لأن كلها للعامة اهـ والمتون على الثاني، فكان هو المعتمد لكن كلام المتون في جعل شيء منه طريقا۔
آپ حضرات سے اس حوالے سے رہنمائی مطلوب ہے۔
واضح ہو کہ جب کسی جگہ شرعی قواعد وضوابط کے ساتھ مسجد بنالی جائے تو وہ جگہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے، اس جگہ کی حیثیت تبدیل کر کے مسجد کے علاوہ کسی اور ضرورت میں اسے استعمال کرنا یا پھر مسجد کے کسی حصہ کو مستقل طور پر راستہ بنانا شرعاً جائز نہیں،لہذامذکور صدیقیہ مسجدتبلیغی مرکز کوئٹہ کے انتظامیہ کیلئے سوال میں مذکورمشکلات کی وجہ سے مسجد کے کسی حصہ کو مستقل طور پر راستہ میں تبدیل کرنا تو شرعاً جائز نہیں ،البتہ سوال میں ذکرکردہ مخصوص دِنوں میں اگر یہ نوعیت سنگین صورت اختیار کرلیتی ہو،جبکہ اس مشکل کے حل کیلئے کوئی چارہ اورمتبادل بھی نہ ہو، توان مخصوص دِنوں جیسے بڑے جوڑمیں اور جمِ غفیر کی صورت میں بامرِ مجبوری اور لوگوں کی سہولت کی خاطر جنوب کی پارکنگ کوشمال کی پارکنگ سے جوڑنے کیلئے مسجد کے تہہ خانہ کے حصہ میں سے مسجد کے کچھ حصہ کووقتی طور پر بطورِ گزرگاہ استعمال کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے،لیکن اس وقتی استعمال کی اجازت اور گنجائش کی وجہ سے اس حصہ سے مسجد کے احکام ساقط نہ ہوں گے،بلکہ یہ بدستور شرعی مسجد ہی کے حکم میں رہیگا،اس لئے مسجد انتظامیہ پر بھی لازم ہوگا کہ وہ بطورِ تنبیہ اس بات کی صراحت کردے کہ یہ حصہ شدیدمجبوری کی وجہ سے بطورِ گزرگاہ استعمال میں لایا جارہا ہے، اس لئے اسے استعمال کرنے کے وقت بھی مسجد کے تقدس اور تعظیم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس سے گزرریں، جبکہ ان مخصوص ایام کے علاوہ عام دِنوں میں اس حصہ کو بھی گزرگاہ کے طور پر استعمال میں لانے سے احتراز چاہیئے۔
کما فی الھدایۃ: فی الھدایۃ: ومن إتخذ أرضہ مسجداً لم یکن لہ أن یرجع فیہ ولا یبیعہ ولا یورث عنہ لأنہ یحرز عن حق العباد وصار خالصا للہ تعالی وھذا لأن الأشیاء کلھا للہ تعالی وإذ سقط العبد ما ثبت من الحق رجع إلی أصلہ الخ (کتاب الوقف، ج2، ص643، ط: شرکت علمیۃ)۔
وفی تبیین الحقائق: قال رحمه الله (وإن جعل شيء من الطريق مسجدا صح كعكسه) (إلی قولہ) وقوله كعكسه أي كما جاز عكسه وهو ما إذا جعل في المسجد ممر لتعارف أهل الأمصار في الجوامع وجاز لكل أحد أن يمر فيه حتى الكافر إلا الجنب والحائض والنفساء لما عرف في موضعه وليس لهم أن يدخلوا فيه الدواب والله أعلم بالصواب إلخ(کتاب الوقف، ج: 3، ص: 331، 332، ط: مکتبہ امدادیہ ملتان)۔
وفی التاتارخانیۃ: وإن أرادوا أن یجعلوا شیئا من المسجد طریقا للمسلمین فقد قیل: لیس لھم ذلک وإنہ صحیح إلخ(کتاب الوقف، الفصل الحادی والعشرون فی المساجد، ج: 8، ص: 159، ط: رشیدیۃ)۔
وفی الھندیۃ: إن أرادوا أن یجعلوا شیئا من المسجد طریقا للمسلمین فقد قیل لیس لھم ذلک وأنہ صحیح کذا فی المحیط، إذا جعل فی السمجد ممر فإنہ یجوز لتعارف أھل الأمصار فی الأمصار فی الجوامع وجاز لکل أحد أن یمر فیہ حتی الکافر الا الجنب والحائض والنفساء ولیس لھم أن یدخلوا فیہ الدواب کذا فی التبیین إلخ(کتاب الوقف، الباب الحادی عشر فی المسجد وما یتعلق بہ إلخ، ج: 2، ص: 457، ط: ماجدیۃ)۔
وفی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر: (تحت قولہ کعکسہ) ھذا یخالف ما فی ((الھندیۃ)) عن المحیط ونصہ: إن أرادوا شیئاً من المسجد طریقاً للمسلیمن، فقد قیل: لیس لھم ذلک وھو الصحیح (إلی قولہ) وظاھر کلام المصنف والشارح جوازہ إلا أنہ لایعطی حکم الطریق من کل وجہ إلخ(کتاب الوقف، ج: 6۔ ص: 643، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0