میری عدالتی خلع ہوئی تھی، میرے شوہر عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ ان کو سب نوٹس جاتے تھے اور میں نے بھی کئی بار التجاء کی کہ عدالت آکر اپنا حق مہر لے جائیں، لیکن وہ نہیں آئے اور مجھے عدالتی خلع مل گئی، پھر کچھ مدت بعد انہوں نے رابطہ کیا کہ اب تم کیا چاہتی ہو؟ میں نے کہا کہ وہی جو عدالت کا فیصلہ ہے توا نہوں نے کہا ٹھیک ہے اور حق مہر لینے پر راضی ہوگئے اور اب ان کے گھر والے حق مہر لے گئے ہیں۔ کیا اب ہمارے درمیان شرعی خلع ہوگیا ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ میں بہت پریشان ہوں کیونکہ میرے رشتے بھی آرہے ہیں، اب اس صورت میں دوسرا نکاح جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، اس لئے خلع کے درست اور معتبر ہونے کے لیے بھی جانبین (زوجین)کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، لہذاصورتِ مسئولہ میں عدالتی خلع کے فیصلہ جاری ہونے کے کچھ مدت بعد جب سائلہ کے شوہر رابطہ کرنے پر سائلہ نے عدالتی خلع کو برقرار رکھتے ہوئے اس رشتہ کو ختم کرنے کا اعادہ کیا ہو تو اس کے جواب میں شوہر منہ زبانی رضامندی کا اظہار کرکے خلع کے عوض مہر کی رقم بھی لے لی ہو، تو ایسی صورت میں جس دن شوہر کی رضامندی کا اظہار ہو،اس وقت سے یہ خلع شرعا بھی معتبر ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے،اور اب اس رضامندی کے بعد سے سائلہ اپنی عدت (جوکہ تین ماہواریاں ہے،اگر وہ حاملہ نہ ہو)گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی ردالمختار: (قوله: و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك و أما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، و لا يستحق العوض بدون القبول(باب الخلع،ج:3،ص؛441،ط:سعید)
و فی المبسوط : (قال) : و الخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود ، و هو بمنزلة الطلاق بعوض ، و للزوج و لاية إيقاع الطلاق(باب الخلع،ج:6،ص:173،ط:دارالفکر)