نکاح

میاں بیوی میں ہمبستری نہ ہونے کی وجہ سے طلاق کے بعد عدت کا حکم

فتوی نمبر :
89198
| تاریخ :
2025-11-26
معاملات / احکام نکاح / نکاح

میاں بیوی میں ہمبستری نہ ہونے کی وجہ سے طلاق کے بعد عدت کا حکم

السلام علیکم مفتی صاحب! مجھے ایک مسئلے کے متعلق معلومات لینی ہے ،کہ ایک عورت کا شوہر اگر ایک سال سے اسکے قریب نہ گیا ہو اور حق زوجیت ادا نہ کررہا ہو اور وہ اپنی بیوی پر غلط الزامات لگا رہا ہو ، اور وہ طلاق دیدے تو کیا طلاق کے بعد وہ عورت عدت گزارے گی؟ کیونکہ عدت تو اس لئے گزاری جاتی ہے کہ چار ماہ تک مرد کے جراثیم عورت کے اندر رہتے ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عدت اصالۃً ،حکمِ خدا وندی ہے ، جس کی تعمیل ہر حال میں لازم اور ضروری ہے ،جہاں تک سائل کے بیان کردہ مقصد کی بات ہے تو واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ کا ہر حکم کئی سارے مقاصد کو مشتمل ہوتا ہے ،تاہم تعمیل کا دارومدار ہر حکم میں ان مقاصد پر نہیں ہوتا بلکہ حکمِ خداوندی ہی اصل بنیاد ہوتی ہے ،نیز عدت کا مقصد فقط استبراء رحم (بیوی کے رحم کا شوہر کے مادہ منویہ سے خالی ہونا) نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ طلاق کی وجہ سے نکاح کی نعمت چھن جانے یا شوہر کے انتقال کی صورت میں اس پر افسوس کا اظہار کرنا بھی مقاصد عدت میں شامل ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر عورت کا شوہر ایک سال سے اسکے قریب نہ گیا ہو اور نہ ہی حق زوجیت ادا کیا ہو اور پھر وہ شخص اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو طلاق کے بعد اس عورت کے ذمہ معمول کے مطابق تین ماہواریاں عدت گزارنا اور احکام عدت کی پابندی کرنالازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال تعالی: و المطلقات یتربصن بأنفسھن ثلاثۃ قروء (البقرۃ، 228،)۔
و فی الدر المختار :(ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور (وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق أوأنكر(ج:3،ص520،ط:سعید)۔
و في الفقه الإسلامي :وحكمة العدۃ إما التعرف على براة الرحم أو التعبد أو التفجح على الزوج أو اعطاء الفرصة الكافية للزوج بعد الطلاق ليعود لزوجته المطلقة اھ (ج: 2، ص:627)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89198کی تصدیق کریں
0     54
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات