فون پر کئے گئے نکاح میں لڑکی کا وکیل صرف اس کا وَلِی ہی بن سکتا ہے یا کوئی اور شخص بھی اس کا وکیل بن سکتا ہے؟ لڑکی پہلے سے طلاق یافتہ ہے۔
واضح ہوکہ نکاح کے انعقاد کے لئے متعاقدین (لڑکا و لڑکی) یا ان کے مقرر کردہ وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا لازم وضروری ہے، اس لئے انٹرنیٹ پر ویڈیوکال یا ٹیلی فون وغیرہ کے ذریعہ نکاح شرعاً درست نہیں، البتہ کسی عذر اور ضرورت کی بناپر اگر متعاقدین (لڑکا و لڑکی ) دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے لئے مجلس ِنکاح میں حاضر ہونا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں مجلسِ نکاح سے غائب شخص(لڑکی ہویالڑکا) کو چاہیئےکہ وہ کسی حاضر شخص کو ای میل، یا فون وغیرہ کے ذریعہ اپنے نکاح کا وکیل مقرر کردے،پھرچاہے وکیل ولی ہویاغیرولی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، پھر مذکور وکیل اگرایسےگواہان کی موجودگی میں جو وکیل کے علاوہ ہوں ، ایجاب یاقبول کرے تو ایسا کرنے سے یہ نکاح شرعاً بھی درست منعقد ہو جائےگا ۔
كما في الدر المختار: (وشرط سماع كل من المتعاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما (و) شرط (حضور) شاھدیں (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معاً اھ( کتاب النکاح،ج:3،ص:21،ط:سعید)۔
وفى الھدایۃ: النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبرهما عن الماضى الخ (کتاب النکاح،ج:2،ص: 4،ط: انعامية )۔