نکاح

والدین کے خاندان میں شادی نہ کرنے کا کہہ کر پھر وہاں شادی کرنا

فتوی نمبر :
88930
| تاریخ :
2025-11-18
معاملات / احکام نکاح / نکاح

والدین کے خاندان میں شادی نہ کرنے کا کہہ کر پھر وہاں شادی کرنا

ایک لڑکے نے کہا میں ماں باپ کے خاندان میں شادی نہیں کروں گا ،اب وہ نانی کے ماموں کے بیٹے کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور لڑکے نے اگر قسم نہ کھائی ہو اور نہ ہی طلاق کو معلق کیا ہو کہ ”اگر کروں تو اسے طلاق“ تو اس کا فقط مذکور الفاظ ”میں ماں باپ کے خاندان میں شادی نہیں کروں گا “ کہنے سے چونکہ نہ کوئی قسم اور نہ ہی کوئی تعلیق طلاق منعقد ہوئی ہے، اس لیے اب مذکور لڑکے کااپنی نانی کے ماموں کے بیٹےکی بیٹی کے ساتھ نکاح کر نا شرعا جائز اور درست ہے،اور اس کی وجہ سے نہ وہ حانث ہو گا ،اور نہ ہی اس کی ہونے والی بیوی پر کوئی طلاق واقع ہو گی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنی و ثلث و ربع فإن خفتم فواحدۃ أو ما ملکت أیمانکم الآیۃ ( سورۃ النساء آیت: 4)۔
و فی صحیح البخاری: عن عبد الرحمن بن یزید قال دخلت مع علقمۃ و الأسود علی عبداللہ فقال عبداللہ کنا مع النبی ﷺ شباباً لا نجد شیئا فقال لنا رسول اللہ ﷺ یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فإنہ أغض للبصر و أحصن للفرج و من لم یستطع فعلیہ بالصوم فإنہ لہ و جاء (باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم ج: 3 ، ص: 2305 ،ط: بشری )۔
وفی الھندیۃ: و لا تصح إضافۃ الطلاق إلا أن یکون الحالف مالکا أو یضیفہ إلی ملک الخ ( الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق ج: 1، ص: 420، ط: ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88930کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات