نکاح

مرضعہ کے انکار کے بعد نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
88775
| تاریخ :
2025-11-12
معاملات / احکام نکاح / نکاح

مرضعہ کے انکار کے بعد نکاح کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیان عظام اس مسئلہ شرعیہ کے بارے میں کہ زید نے ایک لڑکی کیساتھ منگنی کی، کچھ دنوں بعد زید کو اس کی ماں نے کہا کہ آپ کو اور اس لڑکی کے باپ کو، لڑکی کی دادی نے ملکر دودھ پلایا ہے، مطلب اب لڑکی کا باپ اور زید دونوں رضاعی بھائی بن گئے اور لڑکی زید کی بھتیجی بن گئی، اب تو نکاح حرام ہوا، زید انتہائی افسوس و پریشانی کے بعد لڑکی کی دادی کو سامنے لایا اور کہا کہ آپ نے مجھ کو دودھ دیا ہے یا نہیں؟ دادی نے کہا کہ میں خلفاً بھی کہہ سکتی ہوں کہ میں نے نہیں دیا ہے کیونکہ میں نے بہت کوشش کی آپ بار بار روتے تھے بالآخر آپ کو شربت پلایا گیا ،تو اب زید کیلئے اس لڑکی کیساتھ نکاح کرنا کیسا ہے؟ ساتھ اس بات کی بھی وضاحت کریں کہ اگر خدا نہ کرے اگر یہ عورت مرضعہ جھوٹ بولتی ہے یا انہیں بھول ہوئی ہو تو کیا نکاح و اولاد پر کوئی اثر پڑیگا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں زید کی ماں کے پاس اگر اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے شرعی گواہ نہ ہوں اور لڑکی کی دادی بھی اس بات کا انکار کرتی ہو اور حلف اٹھانے کو بھی تیار ہو تو ایسى صورت میں حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی، اور زید کا مذکور لڑکی کے ساتھ نکاح بھی شرعا درست ہوگا ،لیکن اگر زید کو اپنی ماں کی خبر سچی معلوم ہوتی ہو اور وہ سمجھتا ہو کہ لڑکی کی دادی بھی کذب بیانی سے کام لے رہی ہے تو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ مذکور لڑکی سے رشتہ کرنے سے اجتناب کرے اور کسی دوسری مناسب جگہ رشتہ کر لے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في بدائع الصنائع: وإذا شهدت امرأة على الرضاع فالأفضل للزوج أن يفارقها لما روي عن محمد أن عقبة بن الحارث قال: تزوجت بنت أبي إهاب فجاءت امرأة سوداء فقالت: إني أرضعتكما فذكرت ذلك لرسول الله ﷺ فقال ﷺ «فارقها فقلت إنها امرأة سوداء وإنها كيت وكيت فقال ﷺ كيف وقد قيل: وفي بعض الروايات قال عقبة فذكرت ذلك لرسول الله ﷺ فأعرض ثم ذكرته فأعرض حتى قال في الثالثة أو الرابعة: فدعها إذا» وقوله: فارقها أو فدعها إذا ندب إلى الأفضل والأولى. ألا ترى أنه ﷺ لم يفرق بينهما بل أعرض ولو كان التفريق واجبا لما أعرض فدل قوله ﷺ فارقها على بقاء النكاح. [ط: ايچ ايم سعيد (4/ 15)]
وفي الدر المختار: (ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكا ولوالجية. [ط: ايچ ايم سعيد (3/ 212)]
وفي رد المحتار تحت: (قوله فلو التقم إلخ) تفريع على التقييد بقوله إن علم. وفي القنية: امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. اهـ. ط. وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك. [باب الرضاع، ط: ايچ ايم سعيد (3/ 212)]
وفي الفتاوى الهندية: المرأة إذا جعلت ثديها في فم الصبي ولا تعرف أمص اللبن أم لا ففي القضاء لا تثبت الحرمة بالشك وفي الاحتياط تثبت دخل في فم الصبي من الثدي مائع لونه أصفر تثبت حرمة الرضاع لأنه لبن تغير لونه كذا في خزانة المفتين. [ط: مكتبة ماجدية (1/ 344)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88775کی تصدیق کریں
1     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات