جی پی فنڈ پر ملنے والے انٹرسٹ کے پیسوں کا کیا کرے؟
جی پی فنڈ کی دو قسمیں ہیں(1) جبری (2) اختیاری
”جبری “جی پی فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے ، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے ، شرعاً ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے ، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں درحقیقت ملازم کی تنخواہ ہی کا حصہ ہیں ، اگرچہ سود یاکسی نام سے دی جائیں ، لہٰذا ملازم کے لئے یہ لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے ۔
جبکہ جی پی فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے ، جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے، اس پرجو رقم محکمہ بنام سود دے گا ، اس کو لینے اور اپنے استعمال میں لانے سے اجتناب کرنا چاہیئے ، لہٰذا سائل کی تنخواہ سےاگر سائل کی اجازت و اختیار کے بغیر ”پراویڈنٹ فنڈ “ کے نام سے رقم کی کٹوتی ہوتی رہی ہو تو ایسی صورت میں سائل ادارے کیطرف سے ”انٹرسٹ“ کے نام سے دی جانے والی رقم بھی اپنے استعمال میں لاسکتاہے۔
کما فی رد المحتار: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر الخ(5/ 166)۔
وفی بدائع الصنائع: و جملة الكلام في الديون أنها على ثلاث مراتب في قول أبي حنيفة : دين قوي ، ودين ضعيف ، ودين وسط كذا قال عامة مشايخنا أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة ، وعبيد التجارة ، أو غلة مال التجارة (الی قوله) وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث ، أو بصنعه كما لوصية ، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر ، وبدل الخلع ، والصلح عن القصاص ، وبدل الكتابة (الی قوله) وأما الدين الوسط فما وجب له بدلا عن مال ليس للتجارة كثمن عبد الخدمة ، وثمن ثياب البذلة والمهنة الخ(2/ 10)۔
وفی البحر الرائق: (قوله والأجرة لا تملك بالعقد) (الی قوله) (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك الخ(7/300)۔
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0