میں ایک سرکاری ملازم اور ہماری تنخواہ سے ہر ماہ لازماً ایک مخصوص رقم GPF کی مد میں کاٹی جاتی ہے جو ہمارے نام کے GPF اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہے ,اس پر سالانہ پرافٹ بھی دیا جاتا ہے. لیکن وہ رقم 45 یا 50 سال کی عمر سے پہلے نہیں نکلوا سکتے اگر اس سے پہلے نکلوائی جائے تو قرض کے طور پر دی جاتی ہے اور ماہانہ کٹوتی کے علاوہ قرض لی گئی رقم کی قسط بھی کاٹی جاتی ہے.
1. کیا اس پر پرافٹ لینا جائز ہے؟
2. کیا اس رقم پر زکوٰۃ کی ادائیگی کی جائے گی؟
جی پی فنڈ کی دو قسمیں ہیں (۱) جبری (۲) اختیاری
جبری جی پی فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جورقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے ،اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے، پھر مجموعہ پر جور قم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے ، شرعاً ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے ، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت ملازم کی تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگر چہ سود یا کسی نام سے دی جائیں، لہذا املازم کے لئے یہ لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے ، اور جب یہ رقمیں ملازم کے قبضہ میں آجائیں تو ان پر سال پورا ہونے پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ کی ادائیگی بھی لازم ہے، البتہ ملازم کے قبضہ میں آنے سے پہلے اس پر اس کی زکوۃ لازم نہیں۔
جبکہ جی پی فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے جس میں ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے رقم کٹواتا ہے ، اس پر جو رقم محکمہ بنام سود دے گا اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ، اس سے اجتناب لازم ہے اس دوسری قسم میں چونکہ تشبہ بالر با کے ساتھ سود خوری کا ذریعہ بنالینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائے یا وصول کر کے بغیر نیتِ ثواب کسی مستحقِ زکوۃ کو صدقہ کر دیا جائے۔
كما في البحر الرائق: (والاجرة لا تملك بالعقد (إلى قوله) بل بالتعجيل أو بشرطه او بالاستيفاء أو بالتمكن) يعنى لا يملك الاجرة إلا بواحد من هذا الأربعه والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك اھ (۷/۳۰۰) -
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0