جناب محترم قاری صاحب! السلام علیکم!
قاری صاحب! آپ سے گزارش ہے کہ کلامِ پاک کے علم اور حدیثوں کی روشنی میں میری اصلاح کریں۔
جناب محترم! میں پاکستان کیبلز کا ورکر ہوں اور کمپنی میں میرا (PF) فنڈ ہوتا ہے، اگر کسی ورکر کو (6) بیسک لینی ہو ،تو کمپنی چیک کی مد میں وہ رقم بینک سے دیتی ہے اور بینک ہم سے ہماری ہی رقم پر انٹرس لیتا ہے، تو کیا ہم یہ پیسے گھر کے اخراجات میں استعمال کرسکتے ہیں یا قربانی کے لئے رقم کم پڑ رہی ہے ، تو کیا یہ رقم ہم قربانی کا جانور خریدنے میں استعمال کرسکتے ہیں؟ میری اصلاح فرمائیں، جناب کی بڑی مہربانی ہوگی۔ جزاک اللہ خیرا
واضح ہو کہ "پراویڈنٹ فنڈ" کے نام پر جمع شدہ رقم ، ہر ماہ ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے اور یہ ملازم کا حق ہوتا ہے، لہٰذا سائل کے لئے اپنے پراویڈنٹ فنڈ (P.F) میں بوقتِ ضرورت کمپنی سے بینک کے توسط سے رقم وصول کرنا اور اس رقم کو گھریلو اخراجات یا قربانی وغیرہ کے لئے استعمال کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے، جبکہ پراویڈنٹ فنڈ (P.F) کی مد میں جو رقم سائل نے وصول کی ہے،اگر واپسی میں یہ رقم کچھ اضافہ کے ساتھ سائل کے پراویڈنٹ فنڈ میں ہی جمع ہوتی ہو ، تو سائل کے لئے مذکور رقم ادارہ سے لے کر واپسی میں اضافہ کے ساتھ لوٹانا بلاشبہ جائز ہے ۔
کما فی الدر المختار: الربا هو لغة: مطلق الزيادة وشرعا (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة والبيوع الفاسدة فكلها من الربا فيجب رد عين الربا لو قائما لا رد ضمانه لأنه يملك بالقبض قنية وبحر (خال عن عوض) خرج مسألة صرف الجنس بخلاف جنسه (بمعيار شرعي) وهو الكيل والوزن فليس الذرع والعد بربا(مشروط) ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر فلو شرط لغيرهما فليس بربا بل بيعا فاسدا (في المعاوضة) الخ ( باب الربا ج 5 ص 170 ط: سعید ) ۔
وفی حاشیۃ ہدایۃ: الربا فی الشرع عبارۃ عن فضل مال لا یقابلہ عوض فی معاوضۃ مال بمال الخ ( باب الربا ج 3 ص 115 ط: بشریٰ ) ۔
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0