السلام علیکم !
سلام کے بعد گزارش ہے کہ جو ملازم کسی ادارے میں کام کرتا ہے اور اس کو اس کی تنحواہ میں سے جو جی پی فنڈ کی کٹوتی ہوتی ہے جو آخر میں انٹرسٹ کے ساتھ ملتی ہے اور وہ اس انٹرسٹ کوختم بھی نہیں کروا سکتا تو کیا وہ سود کے زمرے میں آتی ہے ؟ اور اس کو لینا جائز ہے؟ نیز اگر اس جی پی فنڈ سے انٹرسٹ ختم کروا سکتا ہے اور زیادہ پیسے کے لالچ میں وہ انٹرسٹ ختم نہیں کرواتا تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ قرآن و سنت کے روشنی میں جواب تحریر کریں
پراویڈنٹ فنڈ کی دو قسمیں ہیں جبری اور اختیاری , جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ہرماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے پھر مجموعہ کو بینک وغیرہ میں رکھوا کر اس پر جو رقم سالانہ بنام سود حاصل کرتا ہے اور اس رکھوانے میں ملازم کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ,شرعاً ان تینوں رقوم کا حکم ایک ہی ہے،اور وہ یہ کہ یہ سب رقوم درحقیقت تنخواہ ہی کا ایک حصہ ہے اگرچہ سودیاکسی اور نام سے دی جائیں , یہ ملازم کے حق میں سود نہیں , لہذا ملازم کے لئے ان کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے، جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم جو اختیاری ہے جس میں ملازم کی مرضی و اختیار سے اس کی تنخواہ سے کٹوتی ہو تی ہے، اس میں پہلی قسم کے رقم لینا تو درست ہے ،البتہ اس میں تیسری رقم جو محکمہ بنا م سود دے گا اس میں تشبہ بالرباہے اس لئے پراویڈنٹ فنڈ اختیاری کی صورت میں اس تیسری رقم کو لینےاور اپنے استعمال میں لانے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
کما فی رد المحتار : (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر۔اھ (5/ 166)-
وفی البحرالرائق: (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك(ج7 ص300)۔
و فی بدائع الصنائع : و جملة الكلام في الديون أنها على ثلاث مراتب في قول أبي حنيفة : دين قوي ، و دين ضعيف ، و دين وسط كذا قال عامة مشايخنا أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة ، و عبيد التجارة ، أو غلة مال التجارة (الی قوله) و أما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث ، أو بصنعه كما فی الوصية ، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، و بدل الخلع ، و الصلح عن القصاص ، و بدل الكتابة (الی قوله) و أما الدين الوسط فما وجب له بدلا عن مال ليس للتجارة كثمن عبد الخدمة ، و ثمن ثياب البذلة و المهنة۔اھ (2/ 10)-
و فیه ایضاً : (و أما) الذي يرجع إلى نفس القرض : فهو أن لا يكون فيه جر منفعة ، فإن كان لم يجز ، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة على أن يرد عليه صحاحا أو أقرضه و شرط شرطا له فيه منفعة ؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه و سلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ و لأن الزيادة المشروطة تشبه الربا ؛ لأنها فضل لا يقابله عوض ، و التحرز عن حقيقة الربا ، و عن شبهة الربا واجب۔اھ (7/ 395)-
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0