سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیانِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ پر ملنے والے G.P.FUND میں سود کی آمیزش کے متعلق کہ: اگر G.P.FUND میں سے سود کی آمیزش کو الگ کر لیا جائے، تو اس کو کہاں اور کیسے صرف کیا جائے؟ نیز کیا اس سود کی رقم کو درج ذیل مدات کے تحت استعمال کیا جاسکتا ہے؟ 1 : ریٹائرمنٹ کے وقت مختلف آفس میں ریٹارمنٹ کے کیس کو آگے بڑھانے کے لئے رشوت کے بغیر کام نہیں ہوتا، اس لئے میں نے خود اپنے ہاتھ سے رشوت دینے کے بجائے، تھرڈ پارٹی کو ایک لاکھ پچاس ہزار معاوضے پر ہائر کیا ہے، کیا یہ معاوضہ G.P.FUND کے ساتھ ملنے والے سود سے ادا کیا جاسکتا ہے؟ 2 : میرا برادر نسبتی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، اس کی بیٹی کی شادی عنقریب ہے، کیا سود کی رقم اس شادی پر خرچ کی جاسکتی ہے؟ نیز G.P.FUND کی رقم شادی کے بعد ملنے کا قوی امکان ہے، لہذا ابھی پیسوں کا انتظام کر کے شادی کے اخراجات ادا کئے جائیں اور G.P.FUND کی رقم ملنے کے بعد سود کی رقم سے یہ اخراجات واپس وصول کئے جاسکتے ہیں؟ 3: کیا G.P.FUND میں شامل سود کی رقم سے بغیر ثواب کی نیت برادر نسبتی جو کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے، اسے عمرہ کرایا جاسکتا ہے؟
جی پی فنڈ کی دو قسمیں ہیں(1) جبری (2) اختیاری ،جبری جی پی فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے ، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے ، شرعاً ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے ، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں درحقیقت ملازم کی تنخواہ ہی کا حصہ ہیں ، اگرچہ سود یاکسی اور نام سے دی جائیں ، لہٰذا ملازم کے لئے یہ لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے ۔جبکہ جی پی فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے ، جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے، اس پرجو رقم محکمہ بنام سود دے گا ، اس کو لینے اور اپنے استعمال میں لانے سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔لہذا جوجی پی فنڈ اختیاری کٹوتی سے حاصل ہوا ہو، تو اس میں سے اپنی جمع شدہ رقم سے ملنے والی اضافی رقم کو اولاً وصول ہی نہ کیا جائے، لیکن اگر وصول کرلیاگیا ہو، تو اسےاپنے استعمال میں لانے کی بجائےکسی ضرورت مندپربلانیتِ ثواب صدقہ کردینا چاہیئے ۔
جبکہ صورتِ مسئولہ میں سائل کو اگر واقعۃً اپناجائزحق لینے کے لیےمجبوراًرشوت دیناپڑرہی ہو،تواگرچہ ایسی صورت میں باوجود اس کے کہ رشوت کا لین دین حرام ہے ،مگرمظلوم شخص کو رشوت دے کر اپنا حق لینےکی شرعاً گنجائش دی گئی، لیکن سوال میں ذکرکردہ صورت میں چونکہ سائل کااپنادنیوی فائدہ مضمرہے،لہذاسائل کا جی پی فنڈ کی مذکورسودی رقم تیسری پارٹی کو دیکراپنی ریٹائرمنٹ کے کیس کوحل کروانادراصل اس رقم کو اپنے ہی استعمال میں لاناہے،کیونکہ مذکورتیسرافردسائل کاوکیل ہے اوروکیل کےانجام دئیے گئے تمام امورموکل کے ہی شمارہوتے ہیں ،لہذاسائل کا اس رقم کوبطورِرشوت اپنے ریٹائرمنٹ کے مسائل کے حل کے لیے دیناجائزنہیں ،جس سے احترازچاہیئے۔ جبکہ سائل کابرادرنسبتی اگر وہ واقعی غریب اور مستحقِ زکوۃ ہو ،تو اسےاس قسم کی سود کی رقم بلانیتِ ثواب دینے کی گنجائش ہے ،اور وہ اس رقم کواپنی بچی کی شادی کی ضروریات میں بھی استعمال کر سکتا ہے، جبکہ مذکور رقم ملنے سے قبل یہ حیلہ بھی اختیارکیاجاسکتاہےکہ سائل فی الحال اسے مطلوب رقم قرض کے طور پر دیدے، جب یہ جی پی فنڈ کی رقم مل جائے تو اس کو بلا نیتِ ثواب مالکانہ قبضہ کے ساتھ یہ رقم دے کر اپنے قرض کی مد میں وصول کرلے ،توشرعاًاس کی گنجائش ہوگی۔
کما قال اللّٰہ تعالیٰ: احل اللّٰہ البیع و حرم الربوا (سورۃ : البقرۃ ، آیت : 275)ـ
وفی البحر الرائق : (قوله: بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لايملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة، والمراد أنه لايستحقها المؤجر إلا بذلك، كما أشار إليه القدوري في مختصره، لأنها لو كانت دينًا لايقال: إنه ملكه المؤجر قبل قبضه، وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها، فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه، وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر، كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها اھ (کتاب الاجارۃ ، ج: 7 ، ص: 300 ، ط: ماجدیة)ـ
وفی الدر المختار : الحرمة تتعدد مع العلم بہا الا فی حق الوارث وقیدہ فی الظہیرۃ بان لا یعلم ارباب الاموال اھ
وفی رد المحتار: تحت : (قوله الا فی حق الوارث الخ) (الی قوله) والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام فلا يحل له، وتصدق به بنية صاحبه اھ(باب البیع الفاسد ، ج: 5 ، ص: 98 ، ط: سعيد)۔
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0