السلام علیکم! جناب! مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ ہماری کمپنی جو پراویڈنٹ فنڈ ہماری سیلری سے کاٹتی ہے، اور اتنا ہی اماؤنٹ اپنی طرف سے ملاتی ہے، اور سال کے آخر میں اس پر انٹرسٹ لگا کر ہمارے P.F میں جمع کر دیتی ہے، کیا یہ جائز ہے ؟
پراویڈنٹ فنڈ کی دو قسمیں ہیں ۔ (۱) جبری (۲) اختیاری -
جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے ، اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے، ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگر چہ وہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں ،لہذا ملازم کے لیے ان کو لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔
جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے، جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے، اس پر جور قم محکمہ بنام سود دےگا، اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔
اس دوسری قسم میں چونکہ تشبہ بالربا کے ساتھ سود خوری کا ذریعہ بنا لینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائے یا وصول کر کے بغیر نیت ثواب کسی مستحق زکوۃ کو صدقہ کر دیا جائے۔
كما البحر الرائق: (قوله والأجرة لا تملك بالعقد) (الى قوله) (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري اھ (7/ 300) واللہ اعلم
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0