ترجمہ : میرا سوال یہ ہے کہ ہمیں کمپنی اپنی پرافٹ کا (5)فیصد شئیر کرتی ہے ،اور اس اماؤنٹ کو بینک میں رکھنے کی وجہ سے اس پر سود بھی بنتا ہے ،لیکن جب وہ ہمیں ملتے ہیں تو کمپنی بتا دیتی ہے کہ سود کتنا ہے تو اس سود کے پیسوں کا کیا مصرف ہونا چاہیئے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کی کمپنی اگر مذکور رقم ملازمین میں تقسیم کرنے کے بجائے از خود سودی بینک وغیرہ میں رکھواکر اس پر سود وصول کرے اور اپنےمجموعی فنڈ میں شامل کر نے کے بعد سود سمیت رقم ملاز مین میں تقسیم کرے تو ملازمین کیلئے اگر چہ مذ کو ساری رقم اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے، البتہ جب کمپنی سود ی رقم کی تعیین کر کے ملازمین کو بتلا دے تو ایسی صورت میں ملازمین کیلئے بہتر ہے کہ اتنی رقم اپنے استعمال میں لانے کے بجائے صدقہ کردیں ۔
جبکہ کمپنی کا سودی ادارہ میں رقم رکھوا کر اس پر سود لیناپھر اسےاپنے ملازمین میں تقسیم کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے جس کی وجہ سے کمپنی کے مالکان گناہ گار ہوں گے ،لہٰذا کمپنی مالکان کو آئندہ اس طرح کے حرام کاموں سے اجتناب لازم ہے ۔
كما في مشكوة المصابیح : عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء »رواه مسلم (ج 1 ص 244) ۔
و في رد المحتار: والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه اه (ج 99/5)۔
وفى بذل المجهود :صرح الفقهاء بان من اكتسب مالا بغير حق، فاما اذا كان عند رجل مال خبيث، فاما ان ملكه بعقد فاسد، او حصل له بغير عقد ولا يمكنه ان يرده إلى مالكه ويريد أن يدفع مظلمته عن نفسه، فليس له حیلة الاان يدفعه إلى الفقراء اه (ج 1 / ص 359)۔
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0