السلامُ علیکم
اُمید کرتا ہوں سب قابلِ قدر حضرات خیریت سے ہوں گے ۔میں ایک ادارے میں نوکری کرتا ہوں جہاں میری ماہانہ جو اجرت ملتی ہے اُس میں سے کچھ رقم Provident Fund کی مد میں کات لی جاتی ہے ۔ اگر 5000 کی رقم کمپنی کاٹ لے تو اِتنی ہی رقم کمپنی اپنی طرف سے میرے کھاتے میں جمع کرتی ہیں مطلب 10000 ہر مہینے میرے کھاتے میں جمع ہوتا ہے کمپنی کے پاس۔ کمپنی سب ملازمین کے اِس پیسے کو بینک میں جمع کرتی ہیں جس پر منافع دیا جاتا ہے اور اِس طرح یہ منافع مزید ہمارے کھاتے میں جمع ہو جاتا ہے ۔۔
گزارش ہے کے اسلامی نقطہ نظر سے رہنمائی کریں کیا یہ منافع سود کے زمرے میں آتا ہے یا جائز ہے لینا؟ہم یہاں 50 کے قریب لوگ ہیں جنہیں یہ مسئلہ درپیش ہیں شرعی احکام کے مطابق رہنمائی کی جائے ۔ جزاک اللہ
واضح ہو کہ پراویڈنٹ فنڈ کی دو قسمیں ہیں ۔ (۱) جبری (۲) اختیاری۔جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے ، اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے، ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگر چہ وہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں ،لہذا ملازم کے لیے ان کو لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے، جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے، جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے، اس پر جور قم محکمہ بنام سود دےگا، اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے، اس دوسری قسم میں چونکہ تشبہ بالربا کے ساتھ سود خوری کا ذریعہ بنا لینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائے یا وصول کر کے بغیر نیت ثواب کسی مستحق زکوۃ کو صدقہ کر دیا جائے، لہذاصورتِ مسؤلہ میں اگر پروویڈنٹ فنڈ لازمی طور پر تنخواہ سے کاٹا جاتا ہے اور کمپنی اس میں اپنی طرف سے یا بینک انٹرسٹ سے جو رقم اس میں شامل کرتی ہے، تو یہ رقم درحقیقت ملازم کی تنخواہ ہی کا حصہ شمار ہوتی ہے، اور مذکورہ رقم کو بینک میں رکھ کر اس پر انٹرسٹ حاصل کرنے کا گناہ و وبال کمپنی کے ذمے ہوگا، سائل اس سے بری الذمہ ہے، لہٰذا اس رقم کو لینا، اور اپنی دیگر ضروریات میں صرف کرنا جائز ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها كذا في شرح الطحاوي وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة اھ (4/ 413)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك اھ (7/ 300)-
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0