السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بندہ ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہے، کمپنی والے تنخواہ سے” پراویڈنٹ فنڈ “کے نام سے کچھ رقم کی کٹوتی کرتے ہیں، پھر جتنی رقم کی ملازم کی تنخواہ سے کٹوتی ہوتی ہے اتنی ہی رقم کمپنی بھی ڈالتی ہے اور اس کو کسی جگہ پر جمع کرتی رہتی ہے، سال کے بعد جمع کردہ رقم پر انٹریسٹ(سود) بھی دیتی ہے، اور اس طرح رقم جمع ہوتی رہتی ہے، جب ملازمت ختم ہوتی ہو تو کمپنی وہ رقم ملازم کو واپس کر دیتی ہے، ملازمت کے دوران ملازم کو یہ اختیار ہے کہ باقاعدہ طریقہ سے درخواست کے ساتھ جمع کردہ رقم میں سے کچھ رقم اپنے ذاتی استعمال کے لیے لے سکے، یہ رقم جمع کردہ رقم کی 80 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتی، یہ رقم جو ملازم دوران ِملازمت کسی کام کے سلسلے میں نکلواتا ہے، یہ ملازم کی مرضی ہے کہ وہ کمپنی کو واپس کر یا نہ کرے، اگر واپس کرے گا تو اگر انٹریسٹ کے ساتھ فنڈ جمع ہو رہے ہیں تو واپسی پر بھی انٹریسٹ دے گا، ورنہ نہیں، لیکن یہ واپس کرنا ملازم کی اپنی مرضی پر ہے، واپس کرے یا نہ کرے،بہر صورت سوال یہ ہے کہ کیا پراویڈنٹ فنڈ پر انٹریسٹ لینا جائز ہے؟ یہ معلوم نہیں کہ کمپنی اس رقم کو کہاں لگاتی ہے، جائز کام میں یا نا جائز کام میں، اس کا کچھ پتہ نہیں، بس سال کے بعد انٹریسٹ لگ جانا ہے اور رقم میں اضافہ ہو جانا ہے، مزید ایک وضاحت یہ بھی کہ ملازم کی اپنی مرضی ہے کہ وہ پراویڈنٹ فنڈ پر انٹریسٹ لے یا نہ لے، اگر انٹریسٹ نہیں لیتا تو ملازم کمپنی کو درخواست لکھ دے کہ انٹریسٹ نہیں چاہیے، تو کمپنی بغیر انٹریسٹ کے پراویڈنٹ فنڈ جمع کرتی رہے گی، لیکن پروویڈنٹ فنڈ ضرور جمع ہوگا اس میں کوئی مرضی نہیں، ساری صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے کیا اس انٹریسٹ کی جواز کی کوئی صورت ہے؟جبکہ ملازم کو اختیار حاصل ہے کہ وہ بغیر انٹریسٹ کے پراویڈنٹ فنڈ جمع کروائے۔
واضح ہو کہ ”پراویڈنٹ فند“ کی دو قسمیں ہیں ،(1) جبری ،(2) اختیاری ،جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے ، اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے، ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگر چہ وہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں، ملازم کے لیے ان کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا درست ہے۔
جبکہ ”پراویڈنٹ فنڈ “کی دوسری قسم اختیاری ہے، جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے، اس پر جور قم محکمہ بنام سود دےگا، اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔
اس دوسری قسم میں چونکہ تشبہ بالربا کے ساتھ سود خوری کا ذریعہ بنا لینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائے یا وصول کر کے بغیر نیت ثواب کسی مستحق زکوۃ کو صدقہ کر دیا جائے۔
کما قال اللہ تعالی:أحل اللہ البیع و حرم الربوا الآیۃ(سورۃ البقرہ آیت 257،)
و فی الصحیح لمسلم: عن جابر رضی اللہ عنہ قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ و قال ھم سواء ( کتاب البیوع ج: 3 ، ص: 1219، ط: دار إحیاء التراث العربی)۔
وفی البحر الرائق: (قوله والأجرة لا تملك بالعقد) (الى قوله) (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري الخ(کتاب الإجارۃ ج:7،ص:300،ط: مکتبۃ رشیدیۃ)۔
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0