میں پرائیویٹ ادارے میں ملازم ہوں ، ہم جب اپنی جمع شدہ پراویڈنٹ فنڈ سے کچھ رقم قرض کے طور پر لیتے ہیں تو اس پر وہ کچھ پرسنٹ (فیصد) سود لگاتے ہیں ۔(مثلاً تیس ہزار روپے میں تقریباً چار سو پچاس روپے سود)۔ اگر مجبوراً قرض لیا جائے تو کیا یہ جائز ہوگا ؟
واپسی کی صورت میں اگر یہ کل رقم ملازم کے پراویڈنٹ فنڈ میں جمع کرائی جاتی ہو تو اپنے پراویڈنٹ فنڈ سے ملازم کا قرض کے نام سے کچھ رقم لیکر اضافے کے ساتھ لوٹانا سودی معاملہ نہیں بلکہ بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
ففي الدر المختار: وشرعاً خال عن عوض بمعيار شرعي مشروط) ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر اھ (5/ 170)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله أي بائع أو مشتر) أي مثلا فمثلهما المقرضان والراهنان اھ (5/ 170)
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0