نکاح

لڑکا و لڑکی کا کورٹ جاکر کورٹ میرج کرنے سے کیا ان کا نکاح منعقد ہوجائے گا؟

فتوی نمبر :
88739
| تاریخ :
2025-11-11
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکا و لڑکی کا کورٹ جاکر کورٹ میرج کرنے سے کیا ان کا نکاح منعقد ہوجائے گا؟

میرا نام زید ہے، اور عابد آباد (بلاک سی C) کا رہائشی ہوں، میری بیٹی فلانہ جس کی عمر 18 سال ہے، میری بیٹی فلانہ نے میری بھانجی کے بیٹے جس کا نام عمرو ہے، اور عمرو کی عمر 20 سال ہے، ان دونوں نے عدالت جاکر کورٹ میرج کی ہے، کیا ان دونوں کا نکاح شریعت کے مطابق ٹھیک ہے یا نہیں؟ براہِ مہربانی ہمیں اس کے بارے میں شرعی معلومات درکار ہے۔شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اولیاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر لڑکی کا کورٹ میرج کرنا انتہائی نامناسب عمل ہے، جو خاندان کی بدنامی کا باعث بنتا ہے، اور بڑوں کی سرپرستی اور دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے عموماً ایسا نکاح طلاق اور خلع پر منتج ہوتا ہے، اور ایسا نکاح غیر کفؤ میں ہو تو شرعاً منعقد نہیں ہوتا، الا یہ کہ کفؤ میں کیا گیا ہو، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیٹی اور اس کا شوہر اگر ایک دوسرے کے باہم کفؤ ہوں تو ان کا گواہوں کی موجود گی میں کیا گیا یہ نکاح شرعاً منعقد ہو چکا ہے،اس لئے سائل اور گھر کے دیگر افراد کو اب حکمت و مصلحت سے کام لے کر اس رشتہ کو برقرار رکھنے کا اہتمام چاہیئے، تاکہ اس کی وجہ سے دونوں خاندانوں کے درمیان مزید دوریاں پیدا نہ ہوں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وشرط سماع کل من العاقدین لفظ الآخر) لیتحقق رضاھما (و) شرط (حضور) شاھدین (حرین) أو حر وحرتین (مکلفین سامعین قولھما معا) علی الأصح (فاھمین) أنہ نکاح علی المذھب بحر الخ(کتاب النکاح، ج 3، ص 21،22، ط: سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیة: ویشترط العدد فلاینعقد النکاح بشاھد واحد ھکذا فی البدائع (الیٰ قوله) (ومنھا) سماع الشاھدین کلامھما معاً ھکذا فی فتح القدیر الخ(کتاب النکاح الباب الاول فی تفسیرہ الخ، ج 1، ص 267،268، ط: ماجدیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع: الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول، سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر، غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض (إلی قولہ) ماروی عن أبی یوسف انھا إذا زوجت نفسھا من کفء ینفذ لان حق الأولیاء فی النکاح من حیث صیانتھم عما یوجب لحوق العار والشین بھم بنسبۃ من لایکافئھم بالصھریۃ الیھم وقد بطل ھذا المعنی بالتزویج من کفء الخ(کتاب النکاح، فصل وأما ولایۃ الندب الخ، ج 2، ص 247، ط: سعید)۔
وفی الھدایہ: ولاینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین اور جل وامرأتین عدولا کانوا اوغیر عدول او محدودین فی القذف قال رضی اللہ عنہ اعلم ان الشھادہ شرط فی باب النکاح، لقولہ علیہ السلام (لانکاح إلا بشھود الخ(کتاب النکاح، ج 2، ص 5، ط: انعامیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالصمد فرید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88739کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات