جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مؤدبانہ التماس ہے کہ میں آپ سے اپنا ایک ذاتی مسئلہ بیان کر رہا ہوں جس کے متعلق مجھے شرعی رہنمائی دیں بڑی نوازش ہوگی ۔
، میں نے 2018 میں پہلی شادی کی تھی، جس سے میرے دو بچے ہیں۔ پہلی بیٹی جس کی عمر پانچ سال ہے، دوسرا بیٹا دو ماہ کا ہے، شروع ہی سے میری ازدواجی زندگی ٹھیک چل رہی تھی، جوائنٹ فیملی میں رہتا ہوں، سب گھر والے پیار سے رہتے ہیں، کوئی پریشانی نہیں۔ ڈیڑھ سال قبل ”...“ نامی لڑکی سے میری بات چیت ہوئی ، ایک دوسرے کو ہم پسند کرنے لگتے ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم شادی کر لیں گے، ... کے والدین کو میرے بارے میں پتہ چلتا ہے تو اس کی والدہ کی مجھ سے ملاقات ہوتی ہے، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ میں شادی شدہ ہوں، لیکن .... کے پسند کرنے پر وہ مجھے کہتی ہے کہ جب ... 18 سال کی ہو جائے گی تو تم سے اس کی شادی کر وادیں گے ، لیکن تم اپنی بیوی اور گھر والوں کو مناؤ گے۔ میں پھر بھی ہاں کر دیتا ہوں، کچھ عرصہ بعد میرے گھر والوں کو شک ہوتا ہے کہ میں کسی لڑکی سے بات چیت کرتا ہوں، وہ پتہ لگا لیتے ہیں، اور .... کے بارے میں اس کے گھر جا کر میری والدہ خبردار کرتی ہے کہ مریم کو دور رہنے دو میرے بیٹے. سے اس کے بعد اس کے گھر والے .... کو مجھ سے الگ کر دیتے ہیں۔
اور اس کا رشتہ کہیں لگا دیتے ہیں، اس کے بعد لڑکی مجھ سے رابطہ نہیں کرتی چار ماہ بعد ایک دن میرا رابطہ اس سے ہوتا ہے، وہ مجھے کہتی ہے کہ آپ کے بنا خوش نہیں ہوں، میں اس کی والدہ سے بات کرتا ہوں کہ آ پ مجھے ایک موقع دیدیں میں سب ٹھیک کر دوں گا، وہ مان جاتی ہے، کچھ عرصہ بعد میں اور لڑکی فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم نکاح کر لیتے ہیں، تاکہ ہمیں کوئی دوبارہ الگ نہ کر سکے، اور ہم تین سال یہ بات راز رکھیں گے۔ اس طرح ہم ”کورٹ میرج “کرتے ہیں۔ لیکن رخصتی کا ارادہ تین سال بعد کا رکھتے ہیں 23 اگست 2025 کو ہم نکاح کرتے ہیں۔
لیکن دو ماہ بعد ہی میری زوجہ کو شک ہو جاتا ہے کہ میں نے اس لڑکی سے نکاح کر لیا ہے، میرا اس کے گھر کبھی کبھی آنا جانا ہوتا ہے۔ ایک دن میرے گھر والے میرا تعاقب کر کے مجھے لڑکی کے گھر کے پاس روک لیتے ہیں، کافی لڑائی ہوتی ہے، کیونکہ میرے گھر والے پہلی بیوی کے گھر والے لڑکی کے گھر والوں پر حملہ کرتے ہیں، جسے میں بیچ بچاؤں کراتا ہوں۔
مجھ سے غلطی یہ ہوتی ہے کہ اس وقت میں انہیں نکاح کا نہیں بتاتا ہوں، بعد میں گھرآکر میں بتاتا ہوں کہ میں نے نکاح کیا ہے۔ اس کے بعد سب مل کر مجھ پر پریشر ڈالتے ہیں کہ اس کو طلاق دے دو جس پر میں راضی نہیں ہوتا ہوں، وہاں لڑکی بھی اپنے والدین کو نکاح کا بتاتی ہے جس کے بعد اس کے والد مجھے بلاتے ہیں میں وہاں جاکر ان کی شرائط مانتا ہوں اور تین سال کا ٹائم لیتا ہوں کہ میں رخصتی کر کے لے جاؤں گا، میرے گھر والے جب یہ دیکھتے ہیں کہ یہ طلاق نہیں دے رہا تو وہ لڑکی کے گھر والوں پہ اور لڑکی پہ پریشر ڈال دیتے ہیں کہ تم خلع لےلو ۔
اور غلط بیانی کرتے ہیں کہ وہ تمہیں نہیں رکھنا چاہتا، یہاں سے میرا اور لڑکی کا رابطہ ہی ختم کرا دیتے ہیں، لڑکی کے والد مجھے کہتے ہیں کہ ابھی حالات ٹھیک نہیں ،کچھ وقت گزرے تو لڑکی سے بات کرلیں ۔
میں سوچتا ہوں ٹھیک ہے، بعد میں کر لوں گا۔ لیکن ایک دن یونین کونسل سے کسی بندے کی کال آتی ہے کہ آپ کے خلاف ایک درخواست ہے کہ آپ نے ایک لڑکی سے زبردستی نکاح کیا ہے، وہ خلع لینا چاہتی ہے، آپ اسے آزاد کر دو ۔ ورنہ قانونی معاملات میں پھنس جاؤ گے، میں اسے کہتا ہوں کہ ایسی کوئی بات نہیں، ہم نے نکاح اپنے ہوش و حواس میں کیا ہے، ایک دوسرے کو چاہتے ہیں۔ اس نے کہا کہ لڑکی نہیں رہنا چاہتی ، تو میں نے کہا میرا سامنا کراؤ ، میرے منہ پہ بولے گی ،تو جو بولے گی میں کردوں گا۔
وہاں انہوں نے لڑکی سے یہی کہا ہوتاہےکہ وہ تمہیں نہیں رکھنا چاہتا ، تم خلع لے لو، وہ بھی نہیں مانتی اس بات کو لیکن یہ لوگ ہمیں رابطہ نہیں کرنے دیتے ہیں، خلع کا پیپر بنا کر شام کو مجھے بلاتے اور لڑکی کو بلا کے پوچھتے ہیں کہ رہنا چاہتی ہو، پر وہ نہیں کہتی ہے ، اس سے پیپر سائن کرا لیتے ہیں۔
میری حالت اس وقت بہت بری ہوتی ہے، میں لڑکی سے کوئی سوال نہیں کر پاتا، نہ چاہتے ہوئے پیپر سائن کرتا ہوں۔ وہ بے حد پابند کرا لیتے ہیں کہ آج کے بعد دونوں ایک دوسرے سے کبھی بات نہیں کرو گے۔
کچھ دنوں بعد میری لڑکی سے بات ہوتی ہے، وہ بہت پریشان تھی، مجھے بددعا دیتی ہے کہ مجھے طلاق کا داغ لگا دیا، مجھے چھوڑ دیا۔
میں اسے بتاتا ہوں کہ میں نے نہیں چھوڑا ،تم نے کہا نہیں رہنا ، یونین کونسل والوں کو درخواست تم لوگوں نے دی خلع کے لیے جس پر وہ کہتی ہے کہ مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں، میں نے کوئی درخواست نہیں دی بلکہ وہ یونی کونسل والا بندہ آکر مجھے بولا کہ وہ تمہیں نہیں رکھنا چاہتا، چھوڑ دو تم اسے، خلع لے لو ، اور اس پر الزام لگاؤ کہ زبردستی نکاح کیا تھا، تاکہ اس کی نوکری چلی جائے جس پر میں نہیں مانی کہ میں اپنی مرضی سے نکاح کیا تھا۔
ہماری رخصتی بھی نہیں ہوئی، نہ ہم نے ہمبستری کی ہے ، اور نہ ہم نے تنہائی میں ایک ساتھ وقت گزا را ہے ۔ دوسرا یہ خلع جو کروایا گیا، میاں بیوی محبت کرتے تھے، لیکن ان کے دل میں غلط فہمیاں ڈالی گئیں اور ڈرا دھمکا کہ یہ سب کرایا گیا ۔
ہم میاں بیوی ابھی بھی ایک دوسرے کو چاہتے ہیں، ایک ہونا چاہتے ہیں، آپ سے مؤدبانہ التماس ہے اگر کوئی مناسب حل کی گنجائش ہے ہمارے رشتے میں بتا دیں شکریہ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل ( ... ) کا بیان اگر حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل اور اس کی دوسری بیوی کے درمیان نکاح کے بعد ہمبستری نہ ہوئی ہواور نہ ہی وہ کسی ایسی تنہائی میں ملے ہوں جس میں ان کو ہمبستری کا موقع میسر آیا ہو، تو اس صورت میں تین علیحدہ علیحدہ لکھی گئی طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ پر دستخط کردینے سے اس کی دوسری بیوی مسماۃ ( .... ) پہلی طلاق سے بائن ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوگیا ہے، جبکہ بقیہ دو طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو شمار ہونگی، چنانچہ مذکور صورت میں عورت پر عدت لازم نہیں، اس لیے وہ فی الفور دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔ تاہم اگر سائل اور مذکور لڑکی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک دوسرے نکاح کرنے پر آمادہ ہوں تو والدین کی اجازت اور رضامندی سے نئے مہر کے تقرر کے ساتھ شرعی گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرکے عقدِ نکاح کرسکتے ہیں ، مگر اس کے بعد سائل کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی ہوگا، اس لیے آئندہ کی زندگی میں احتیاط لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی : فإن طلقھا فلا تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ ( البقرۃ : 230 )-
وفی مرقاۃ المفاتیح : (عن معاذ): رضی اللہ عنہ (قال: أوصانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم): أی أمرنی (بعشر کلمات) : أی: بعشرۃ أحکام من الأوامر و النواھی لأعمل بھا و أعلمھا الناس( قال: (( لا تشرک باللہ شیئاً)) أی: بقلبک أو بلسانک أیضاً(إلی قولہ)((ولا تعقن والدیک )) أی لا تخالفنھما أو أحدھما فیما لم یکن معصیۃ إذ لا طالعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق (( وإن أمراک أن تخرج من أھلک)) أی:إمرأتک أو جاریتک أو عبدک بالطلاق أو البیع أو العتق أو غیرھا (و مالک) بالتصرف فی مرضاتھما، قال ابن حجر : شرط للمبالغۃ باعتبار الأکمل أیضاً أی : لا تخالف واحداً منھما و إن غلا فی شئ أمرک بہ و إن کان فراق زوجۃ أو ھبۃ مال، أما باعتبار اصل الجواز فلا یلزمہ طلاق زوجۃ امرأۃ ( کتاب الأیمان ، باب الکبائر و علامات النفاق، ج 1، ص 235، ط حقانیۃ )-
و فی الھندیۃ : و إن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ إلخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج:1 ، ص: 473، ناشر: ماجدیۃ )-
و فیھا أیضاً: (وأما) (أنواعه) فالإكراه في أصله على نوعين إما إن كان ملجئا أو غير ملجئ فالإكراه الملجئ هو الإكراه بوعيد تلف النفس أو بوعيد تلف عضو من الأعضاء والإكراه الذي هو غير ملجئ هو الإكراه بالحبس والتقييد. اھ ( کتاب الاکراہ، ج:5، ص: 35، ناشر: دار الفکر )-
وفی النھایۃ فی شرح الھدایۃ : وأما أنواعه: فالإكراه في أصله على نوعين: أما إن كان ملجئا أو غير ملجئ فالإكراه الملجأ هو الإكراه بوعيد تلف النفس أو بوعيد تلف عضو من الأعضاء فهو معتبر شرعا سواء حصل الإكراه على القول أو على الفعل. والإكراه الذي هو غير ملجئ هو الإكراه بالحبس والتقييد فإن حصل ذلك الإكراه [على فعل] من الأفعال فهو غير معتبر شرعا ويجعل كأن المكره فعل ذلك الفعل بغير إكراه.( کتاب الاکراہ، ج: 20، ص: 263، ناشر: مرکز الدراسات الاسلامیۃ أم القریٰ )-