نکاح

رشتہ نہ ملنے کی وجہ سے طلاق کا ذکر نہ کرنا

فتوی نمبر :
88654
| تاریخ :
2025-11-08
معاملات / احکام نکاح / نکاح

رشتہ نہ ملنے کی وجہ سے طلاق کا ذکر نہ کرنا

میری دو شادیاں ہو چکی ہیں جو بدقسمتی سے طلاق پر ختم ہوئیں۔ اب میں تیسرے نکاح کے لیے سنجیدگی سے رشتہ تلاش کر رہا ہوں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب میں یہ بات بتاتا ہوں کہ میری دو طلاقیں ہو چکی ہیں تو زیادہ تر لوگ بغیر وجہ سمجھے فوراً پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں میرا سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً میرے لیے ضروری ہے کہ میں ہر جگہ دو طلاقوں کا صاف ذکر کروں، یا صرف یہ کہنا کافی ہے کہ میں طلاق یافتہ ہوں؟ کیونکہ عام طور پر لوگ مجھ سے یہ نہیں پوچھتے کہ کتنی شادیاں ہوئیں، بلکہ صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ شادی کب سے کب تک رہی اور علیحدگی کی وجہ کیا تھی۔
کیا میں ایسا کر سکتا ہوں کہ میں صرف ایک ناکام شادی کا ذکر کروں تاکہ لوگ دو طلاقوں کا سن کر فوراً بھاگ نہ جائیں؟ اور اگر میں ایسا کروں تو کیا اس پر میرے اوپر کوئی گناہ تو نہیں ہوگا؟ یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں اپنی دوسری طلاق کے بارے میں کسی بھی مرحلے پر اطلاع دینے کا ارادہ نہیں رکھتا، نہ نکاح سے پہلے، نہ بعد میں۔ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ متعلقہ فریق نے خاص طور پررشتوں کے تعداد یا تفصیل کے بارے میں کوئی وضاحت نہ مانگی ہوتو سائل کااز خود انہیں تمام تر تفصیلات پر مطلع کرنا ضروری نہیں اور نہ ہی اس کی وجہ سے اس پر کوئی گناہ لازم ہوگا ،البتہ شادی کے بعد اس بابت علم ہو جانے پر سائل کو اگر آئندہ کی زندگی میں مشکلات کے سامنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں اسے نکاح سے قبل ہی متعلقہ فریق کواس معاملہ میں اعتماد میں لے لینا چاہیے، تاکہ یہ معاملہ بعد میں رشتہ میں بگاڑ کا سبب نہ بنے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن ابی داؤد: عن عبدِ الله، قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "إيَّاكم والكَذِبَ، فإنَّ الكَذبَ يهدي إلى الفُجُورِ، وإنَّ الفجورَ يهدي إلى النار، وإنَّ الرجلَ ليَكذِبُ ويَتحرَّى الكَذِبَ حتى يكتَبَ عند الله كَذَّاباَ، وعليكم بالصِّدْق، فإنَ ‌الصِّدقَ ‌يهدي إلى البرِّ، وإنَّ البِرَّ يهدي إلى الجنَّة، وإن الرَّجُلَ ليَصْدُقُ ويتحرَّى الصِّدقَ حتى يكتبَ عندَ الله صِدِّيقاًاھ(باب التشدید فی الکذب،ج:2،ص:1683،ط:بشری)
وفي الدرالمختار: الكذب مباح لإحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه والمراد التعريض لأن عين ‌الكذب ‌حرام اھ(باب الحظر و الاباحۃ،ج:6،ص:427،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88654کی تصدیق کریں
0     123
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات