میرا نکاح ہوا ہیں اس طرح میری سائڈ سے میری امّی تھی اور ان کے سائڈ سے اُن کے 2 دوست موبائل وائس کال تھی اُن کے ایک دوست نے مُجھ سے پوچھا کہ اتنے حق مہر میں نکاح قبول ہے میں نے کہا ہاں قبول ہیں میں نے 3 بار بولا اُس کے بعد اُن کے دوست نے اُن سے پوچھا کہ آپ کو قبول ہے تو وہاں انہوں نے قابو
صورت مسئولہ میں چونکہ سائلہ نے مجلس نکاح میں موجود کسی فرد کو اپنا وکیل نہیں بنایا تھا (جیسا کہ سوال سے بھی معلوم ہورہا ہے) اور نہ ہی خود مجلس عقد میں شریک تھی، جبکہ نکا ح کے درست منعقد ہونے کے لئے عاقدین یا ان کے وکلاء کا مجلس عقد میں موجود ہونا ضروری ہے، لہذا عاقدین کے مجالس کے مختلف ہونے کی وجہ سے شرعاً یہ نکاح منعقد نہیں ہوا ہے۔
کما فی الد المختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول كقبلت النكاح لا المهر ۔( ج :1 ،ص: 14 'ایچ ایم سعید)
وفي الهندية: (ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد (كتاب النكاح، ج: 1، ص، 269، ط: مكتبة ماجدية)
و فی الدر المختار ایضاُ: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما. (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)علی الأصح اھ (ت:21)
و فی الھندیۃ ایضاُ: و منھا سماع کل من العاقدین کلام صاحبہ ھکذا فی فتاوی قاضی خان اھ( ٤/۲۶۸)