نکاح

گھر والوں کو بتائے بغیر ایک دوسرے سے منسوب لڑکی و لڑکے کا نکاح کرنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
88365
| تاریخ :
2025-10-27
معاملات / احکام نکاح / نکاح

گھر والوں کو بتائے بغیر ایک دوسرے سے منسوب لڑکی و لڑکے کا نکاح کرنا کیسا ہے؟

السلام علیکم! میرا یہ سوال ہے کہ: میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں، میں نے یہ بات اپنے گھر والوں کو بھی بتائی، اور وہ تھوڑی سی کوشش کے بعد راضی بھی ہو گئے، لڑکی نے بھی اپنے گھر والوں سے بات کی، اور وہ بھی راضی ہو گئے، لیکن وہ نکاح میں تاخیر کر رہے ہیں اور اس بات کو سنجیدگی سے نہیں دیکھ رہے، تو کیا میں اور وہ لڑکی دو گواہوں کی موجودگی میں، ایجاب و قبول اور حقِ مہر کے فرائض کے ساتھ، اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر نکاح کر سکتے ہیں، اور لڑکی اپنے گھر ہی رہے اور لڑکی کو یہ بات قبول ہے۔ کیونکہ ہمیں خدشہ ہے کہ: نکاح میں جتنی تاخیر ہوگی، اتنا ہم گناہ کے قریب جائیں گے، اور بعد میں جب بھی وہ ہماری شادی کریں، تو اس وقت سب کے سامنے اعلانِ نکاح کر لیں اور ساتھ رہیں، اگر ہم اب نہیں کریں گے ،تو خدشہ ہے کہ: ہم گناہ کر بیٹھیں گےراہنمائی فرمائیے گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عاقلہ و بالغہ لڑکی اگر اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر ایسے مرد سے نکاح کرلے جو دین، اخلاق، مال، نسب ، پیشے اور تعلیم کے اعتبار سے اُس کے برابر ہو، تو شرعاً یہ نکاح درست اور لازم ہو جاتا ہے، اگرچہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا معاشرتی و اخلاقی طور پر ناپسندیدہ فعل ہے، لہٰذا سائل اوراس لڑکی دونوں کے لیے مناسب یہی ہے کہ اس قسم کا خفیہ نکاح کرنے کے بجائے اپنے بڑوں اورسرپرست ولیوں، کو حکمت، نرمی اور مؤدبانہ انداز میں جلدنکاح پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ گناہ کےامکانات سے بچنے کا طریقہ والدین سے چھپ کرنکاح کرنانہیں ،بلکہ جلد نکاح کی تدبیر کرناہے ، اور جب تک نکاح نہیں ہو جاتا، ایک دوسرے سے تعلقات قائم کرنا، بات چیت، ملاقات و غیر سے بچنا لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: وأما بيان شرائط الجواز والنفاذ فأنواع منها: أن يكون العاقد بالغا فإن نكاح الصبي العاقل وإن كان منعقدا على أصل أصحابنا فهو غير نافذ، بل نفاذه يتوقف على إجازة وليه؛ لأن نفاذ التصرف لاشتماله على وجه المصلحة والصبي لقلة تأمله لاشتغاله باللهو واللعب لا يقف على ذلك فلا ينفذ تصرفه، بل يتوقف على إجازة وليه، فلا يتوقف على بلوغه حتى لو بلغ قبل أن يجيزه الولي لا ينفذ بالبلوغ؛ لأن العقد انعقد موقوفا على إجازة الولي ورضاه، لسقوط اعتبار رضا الصبي شرعا، وبالبلوغ زالت ولاية الولي فلا ينفذ ما لم يجزه بنفسه، وعند الشافعي: لا تنعقد تصرفات الصبي أصلا بل هي باطلة اھ(كتاب النكاح، فصل بيان شرائط الجواز والنفاذ، ج: 2، ص: 233، ط: دار الكتب العلمية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88365کی تصدیق کریں
0     155
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات