والد صاحب کے انتقال کو تین سال ہو چکے ہیں، مگر جائیداد ابھی تک بھائیوں میں تقسیم نہیں ہوئی، کیا میں کسی سے قرض لے کر حج فرض ادا کرسکتا ہوں؟
نوٹ: سائل سےرابطہ کرنے کے بعد معلوم ہو ا کہ سائل کو میراث میں ملنے والے حصےسے کچھ رقم حج کی ادائیگی کیلئے دی جارہی ہے،اور یہ رقم بطور قرض نہیں بلکہ سائل کے اپنے حق میراث کا بعض حصہ ہے۔
واضح ہو کہ مورث کی وفات کے بعد شرعاً تمام ورثاء اس کے ترکہ کے مستحق بن جاتے ہیں، اور بڑوں کو چاہیئےکہ مورث کی وفات کے بعد جلد از جلد اس کا ترکہ تقسیم کر کے ہر ایک مستحق کو اس کا حصہ دیدیں، اور اس میں بلاوجہ تاخیر نہ کریں،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے بھائیوں کو چاہیئے کہ فی الفور تمام ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصص کے بقدر ترکہ تقسیم کریں، جبکہ سائل کے حج کے حوالے سے واضح ہو کہ اگر سائل کو میراث میں ملنے والے حصے سے اتنی رقم حاصل ہوگئی ہے، جو حج کے اخراجات کے لیے کافی ہےتو سائل کوچاہیئے کہ قرض لینے کے بجائے ادائیگی حج کے لیے اسی رقم کو ہی استعمال کرے،لیکن اگر سائل قرض لیتا ہے، اور بعد میں اس قرض کی ادائیگی پر بھی وہ قادر ہے تو قرض لیکر حج کرنے میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں۔
کما فی الھندیۃ: وتفسیرہ ملک الزاد والراحلۃ أن یکون لہ مال فاضل عن حاجتہ وھو ما سوی مسکنہ ولبسہ وخدمہ وأثاث بیتہ قدر ما یبلغہ الی مکۃ ذاھبا وجائیا راکبا لا ماشیا وسوی مایقضی بہ دیونہ ویمسک النفقۃ عیالہ ومرمۃ مسکنہ ونحوہ الی وقت انصرافہ کذا فی محیط السرخسی الخ (کتاب المناسک۔ ج1،ص217، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار : ( ذی زاد )یصح بہ بدنہ فالمعتاد اللحم ونحوہ اذا قدر علی خبز وجبن لا یعد قادراً (وراحلۃ) مختصۃ بہ الخ
وفی الشامیۃ تحت : ( قولہ ذی زاد وراحلۃ ) أفاد أنہ لایجب الا بملک الزاد وملک أجرۃ الراحلۃ فلا یجب بالاباحۃ او العاریۃ کما فی البحر (قولہ مختصۃ بہ) فلا یکفی لو قدر علی راحلۃ مشترکۃ یرکبھا مع غیرہ بالمعاقبۃ شرح اللباب الخ (کتاب الحج،2،ص459، ط: سعید )۔
وفی مجمع الانھر : ( وقدرۃ زاد وراحلۃ ) وھما من شروط الوجوب عند الفقھاء وقال فی الفتح ان القدرۃ علی الزاد والراحلۃ شرط الوجوب لا نعلم عن احد خلافہ ومرادہ عن احد من الفقھاء الخ ( کتاب الحج، ج1،ص261، ط: دارلاحیاء التراث العربی)۔