احکام حج

بچوں کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے حج مؤخر کرنا

فتوی نمبر :
88198
| تاریخ :
2025-10-21
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

بچوں کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے حج مؤخر کرنا

مسئلہ:۔میں تین بچوں کی ماں ہوں، بچوں کی عمر سات سال، پانچ سال، تین سال ہے، مجھ پر کئی سالوں سے حج فرض ہو چکا ہوہے،حج پالیسی کے تحت چھوٹے بچوں کو حج پر لے جانے کی اجازت نہیں، لہذا بچوں کو میرے اور میرے شوہر کے علاوہ میری ساس یا میری شادی شدہ بہن یا دیگر رشتے دار نہیں سنھبال سکتے۔


سوال: کیا میں جب تک میرے بچے بڑے نا ہو جائیں تب تک حج پر جانا مؤخر کر سکتی ہوں؟ شریعت کا فرض رکن تاخیر کرنے پر میں گناہ گار تو نہیں ہوں گی؟ جب تک حج ادا نا کر لوں تب تک اللہ تعالی مجھ سے اس بات پر ناراض رہیں گے؟ اس دوران اگر میری موت واقع ہو جائے تو کیا مجھ سے حج نا کرنے کا سوال ہوگا؟ اور مجھے سزا دی جائے گی؟


میں بچوں کو اپنے شوہر کے پاس چھوڑ کر اپنے بھائی یا ماموں یا چاچا کے ساتھ حج پر جانا چاہتی ہوں لیکن میرے شوہر کہتے ہیں کہ ”میں نے ساتھ جانا ہے حج پر“ ،جبکہ میرے شوہر اپنا فرض حج ادا کر چکے ہیں،میرے شوہر مجھے بار بار کہہ رہے ہیں کہ ”میں نے حج پر تمہارے ساتھ جانا ہے“، میں نے تمہیں کسی اور کے ساتھ حج پر جانے نہیں دینا،“ جبکہ میں نے اپنے شوہر کو بہت سمجھایا ہے کہ مجھ پر حج بہت دیر سے فرض ہو چکا ہوا ہے اور آپ اپنا فرض حج ادا کر چکے ہیں ،اور بچوں کو صرف آپ ہی سنمبھال سکتے ہیں لیکن بہت سمجھانے کے باوجود میرے شوہر مجھے حج پر جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔


سوال: کیا میں شوہر کے کہنے پر حج مؤخر کر دوں؟ کیا میرے شوہر مجھے فرض حج کرنے پر جبکہ میں اپنے محرم رشتے دار کے ساتھ جانا چاہتی ہوں، مجھے روک سکتے ہیں؟ کیا میرے شوہر کا مجھے روکنا جائز ہے؟ کیا میں شوہر کے روکنے کے باوجود اپنے محرم رشتے دار کے ساتھ حج پر جا سکتی ہوں یا شوہر کی بات ماننا لازم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ حج واجب ہوجانے کے بعد اس کی ادائیگی فی الفور واجب اور اس میں بلا عذر شرعی تاخیر کرنا باعث گناہ ہے، البتہ کسی عذرِ شرعی کی وجہ سے حج مؤخر کرنے کی گنجائش ہے اور اس تاخیر کی بناء پر گناہ بھی نہ ہوگا، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے بچے اگرواقعۃً اس کے دیکھ بھال اور پرورش کے محتاج ہوں اور سائلہ ان کو اپنی ساس،بہن یا کسی اور قریبی رشتہ دار کے پاس چھوڑنے میں ضرر لاحق ہونے کا اندیشہ رکھتی ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کے لیےحج مؤخر کرنے کی گنجائش ہے اور اس کی وجہ سے سائلہ گناہ گار بھی نہ ہوگی، البتہ اگر ان کو اپنے والد ( سائلہ کے شوہر )، ساس یا کسی اور قریبی رشتہ دار کے پاس چھوڑ نے سے ان کی دیکھ بھال ممکن ہوجاتی ہو اور اس کو کوئی معتمد محرم بھی میسر ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کے ذمہ چونکہ ادائیگی حج واجب ہوچکی ہے ،اس لیے اس کے شوہر کا اس کے حج جیسے اہم فریضہ کی ادائیگی میں محض اس بناء پر کہ ”میں نے تمہارے ساتھ حج جانا ہے،اور کسی اور کے ساتھ حج پر جانے نہیں دینا“ تاخیر کا باعث اور رکاوٹ بنناشرعاً رست طرزِ عمل نہیں، اور اس صورت میں سائلہ کے لئے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر بھی حج پر جانا جائز اور حج ادا کرنے سے وہ حج بھی بلاشبہ درست ادا ہوجائیگا، البتہ کسی طرح شوہر کو راضی کرکے اس کی اجازت سے ادائیگی حج کے لیے جانا بہتر ہے،تاکہ مستقبل میں گھریلو چھگڑوں سے حفاظت رہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (على الفور) في العام الأول عند الثاني وأصح الروايتين عن الإمام ومالك وأحمد فيفسق وترد شهادته بتأخيره أي سنينا لأن تأخيره صغيرة وبارتكابه مرة لا يفسق إلا بالإصرار بحر ووجهه أن الفورية ظنية لأن دليل الاحتياط ظني، ولذا أجمعوا أنه لو تراخى كان أداء وإن أثم بموته قبله إلخ۔ (کتاب الحج، ج: 2، ص: 457، ط: سعید)۔
وفی غنیۃ الناسک: وفى الكبير عن التتمة: من عليه الحج ومرضت زوجته لا يكون عذرا فى التخلف عن الحج ومرض الوالد والوالدة يكون عذرا إذا احتاجا إليه والولد الصغير المحتاج إليه عذر في التخلف مريضا كان أو لم يكن إلخ(ص: 12، ط: إدارة القرآن والعلوم الاسلامية)۔
وفی الدر المختار: ولیس لزوجھا منعھا عن حجۃ الإسلام لو حجت بلا محرم جاز مع الکراھۃ إلخ۔
و فی الرد تحت : (قوله وليس لزوجها منعها) أي إذا كان معها محرم وإلا فله منعها كما يمنعها عن غير حجة الإسلام إلخ(کتاب الحج، ج: 2، ص: 465، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88198کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات