ایک بالغہ، عاقلہ اور اٹھارہ سال سے زائد عمر کی لڑکی نے ایک شخص سے نکاح کرنے کا وعدہ کیا۔ یہ وعدہ اس نے زبانی بھی کیا، تحریری بھی کیا اور بعض افراد کے سامنے بھی کیا۔ اس وعدے کی وجہ سے مرد نے دوسری عورتوں کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا اور اسی عورت کو اپنی ہونے والی بیوی سمجھ کر اپنی زندگی کے فیصلے اسی پر موقوف کیے۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
1. کیا اس عورت پر اس وعدے کی پاسداری شرعاً لازم ہے؟
2. اگر وہ وعدہ خلافی کرے تو کیا وہ گناہگار ہوگی؟
3. کیا مرد عدالت میں یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ عورت نے وعدہ کیا ہے لہٰذا اسے نکاح پر مجبور کیا جائے؟
واضح ہوکہ نامحرم لڑکے و لڑکی کا باہم بے تکلفی اختیار کرنا اور دوستانہ مراسم رکھنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ اس کی وجہ سے یہ دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں ، اس لیے ان دونوں پر لازم ہے کہ گزشتہ عمل پر توبہ و استغفار اور آئندہ کے لیے اس سے مکمل اجتناب کریں ۔جبکہ اس بے تکلفی کے نتیجہ میں اگر لڑکی نے اس کے علاوہ کسی اور شخص سے شادی نہ کرنے کا وعدہ کیا ہو،لیکن اب والدین کی رضامندی اس رشتہ میں شامل نہ ہو ، یا و ہ خود سے کسی عذر کی وجہ سے اپنے مستقبل کے لیے یہ رشتہ مناسب نہ سمجھے ، جس کی وجہ سے وہ اپنی بات پر قائم نہ رہے ، تو شرعا اس کا اسے اختیار ہے ، اور وہ گناہ گار بھی نہ ہوگی اور نہ ہی لڑکے کو اسے اس نکاح پر مجبور کرنا یا اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا کوئی حق حاصل ہوگا۔
کما فی جامع البيان عن تأويل آي القرآن للطبری: (إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولا) يقول: إن الله جلّ ثناؤه سائل ناقض العهد عن نقضه إياه، يقول: فلا تنقضوا العهود الجائزة بينكم، وبين من عاهدتموه أيها الناس فتخفروه، وتغدروا بمن أعطيتموه ذلك اھ (سورۃ بنی اسرائیل ج:17 ص: 444 ناشر: دار التربية والتراث)
وفی الدر المختار: (وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة لأنه أغلظ، ولذا ثبت به حرمة المصاهرة كما يأتي اھ
وفی رد المحتار: تحت (قوله على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه (الی قوله )ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ ( مطلب فی ستر العورة ج:1 ص:406 ناشر: الحلبی)