نکاح

اگر نکاح پر فقط والدہ راضی نہ ہو تو کیا کیا جائے؟

فتوی نمبر :
86624
| تاریخ :
2025-09-24
معاملات / احکام نکاح / نکاح

اگر نکاح پر فقط والدہ راضی نہ ہو تو کیا کیا جائے؟

لڑکا لڑکی نکاح کرنے کے لئے راضی ہیں،لڑکے کا والد صاحب بھی راضی ہے، لیکن اس کی والدہ راضی نہیں ہے، کہتی ہیں اگر نکاح ہوگا تو میں خودکشی کرلوں گی، اب کیا حکم ہے؟
نوٹ : لڑکا لڑکی دونوں بالغ ہیں لڑکے کی والدہ اس نکاح پرراضی نہیں ،جبکہ لڑکی کےوالدین دونوں راضی ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں لڑکا اور لڑکی اگر عاقل و بالغ ہوں اور ان کے اولیاء ان کے نکاح پر رضامند ہوں تو اس صورت میں مجلسِ نکاح میں باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنے سے شرعاً یہ نکاح منعقد ہو جائے گا،شرعاً نکاح کے درست ہونے کے لیے لڑکے کی ماں کی رضامندی شرط نہیں ہے۔جبکہ لڑکے کی والدہ کا اس نکاح پر ناراض ہونا اور خصوصاً یہ کہنا کہ ”اگر نکاح ہوگا تو میں خود کشی کرلوں گی”انتہائی غلط ،ناجائز اور سخت گناہ کی بات ہے،کیونکہ کسی جائز ومباح شرعی معاملے کو گناہ کبیرہ کی دھمکی کے ذریعے روکنے کی کوشش کرنے کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں۔البتہ ادب واحترام کے تقاضے کے تحت لڑکے پر لازم ہے کہ والدہ کو نرمی ،حکمت اور مناسب تدبیر کے ساتھ راضی کرنے کی کوشش کرے؛لیکن ان کی ناجائز ضد اور غلط دھمکی کی بنیاد پر نکاح کو روک دینا شرعاً لازم نہیں۔جبکہ لڑکے کی والدہ کو بھی چاہیئے کہ اگر لڑکی پاکدامن ،سلیقہ مند، خدمت گزار اور شوہر کے حقوق پورا کرنے والی ہو تو بلاوجہ والدہ کو اس رشتہ میں رکاوٹ بننے اور خود کشی کی دھمکیاں دینے سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف أو أعميين أو ابني الزوجين أو ابني أحدهما، وإن لم يثبت النكاح بهما) بالابنين اھ (کتاب النکاح ، ج: 3 ، ص: 21 ، ط: سعید)ـ
وفی الدر المختار: (قوله فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا ) رضا (ولی) و الاصل ان كل من تصرف في ماله تصرف فی نفسه و ما لا فلا ( وله ) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح، خانية. وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح ( ما لم ) يسكت حتى (تلد منه) (الی قوله) ( و یفتی) فی غیر الکفء الخ (باب الولی ، ج: 3 ، ص: 55 ، ط: سعید)۔
وفى رد المحتار : تحت : (قوله و يفتى فی غير الكف الخ) قيد بذلك لئلا يتوهم عوده الى قوله : فنفذ نكاح الخ و للاحتراز عما لو تزوجت بدون مهر المثل ، فقد علمت ان للولى الاعتراض ايضاً، و الظاهر انه لا خلاف فی صحة العقد و ان هذا القول المفتى به خاص بغير الكفء الخ ( باب الولی ، ج: 3 ، ص: 56 ، ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض الخ (کتاب النکاح، فصل ولاية الندب والاستحباب فی النکاح، ج: 2،ص: 247،ط: ایچ ایم سعید )۔
وفی الدر المختار: ومن شرائط الإیجاب والقبول اتحاد المجلس لو حاضرین وإن طال کمخیرۃ وأن لا یخاف الإیجاب القبول کقبلت النکاح لا المہر نعم یصح الحط کزیادۃ قبلتھا فی المجلس الخ (کتاب النکاح، ج: 3، ص: 14، ط: ایچ ایم سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86624کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات