میری بیوی کسی کے ساتھ بھی جدہ جا سکتی ہے عمرہ کے لیے جبکہ جدہ میں، میں اسے وصول کر لوں گا، کیایہ درست ہے یاغلط؟
سائل کی بیوی کے لیے بغیر محرم کے جدّہ تک سفر کرنا جائز نہیں اگر چہ اس طرح کرنے سے اس کا حج یا عمرہ ادا ہو جائے گا، مگر مسافتِ شرعی کا سفر بغیر محرم کے کرنے کی بناء پر وہ گناہ گارہوگی، لہذااس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی الهندية : ( وأما شرائط وجوبه )( إلى قوله ) ( ومنها المحرم للمرأة ) شابة كانت أو عجوزاً إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام (إلى قوله) والمحرم : الزوج ومن لا يجوز - منا كحتها على التابيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة ءكذا فی الخلاصة اھ (1/210)۔
و فی غنية الناسك : الرابع المحرم او الزوج لامرأة بالغة ولوعجوزا و معها غيرهامن النساء الثقات والرجال الصالحين (كبير) فی مامون مسيرة سفر (إلى قوله) ويشترط ان يكون الحرم او الزوج ما مونا عاقلا بالغا ( الى قوله) والمراهق كالبالغ اھ (26)۔