ایک لڑکا اور لڑکی آپس میں شادی کی خواہش رکھتے ہیں اور ان کے والدین بھی ان کا رشتہ طے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے ہی وہ لڑکا اور لڑکی آپس میں نکاح کر لیتے ہیں۔ نکاح کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ لڑکی اپنے گھر پر موجود ہے جبکہ لڑکا، مولوی اور لڑکے کا دوست تینوں ایک کمرے (کورٹ) میں موجود ہیں۔ یعنی لڑکی وہاں موجود نہیں ہے بلکہ کسی اور جگہ ہے۔ نکاح کے وقت لڑکا لڑکی کو فون کال کرتا ہے، لیکن اسی دوران جب مولوی نکاح پڑھا رہا ہوتا ہے تو لڑکی کی کال ڈراپ ہو جاتی ہے۔ اس موقع پر لڑکے کا دوست بطور وکیل موجود ہے، اور لڑکا اور مولوی بھی موجود ہوتے ہیں۔ تاہم لڑکی نے لڑکے کے دوست کو براہِ راست وکیل مقرر نہیں کیا اور نہ ہی اس سے براہِ راست قبولیت کا اظہار کیا۔ ہاں، لڑکی دل سے راضی ہے، مگر اس نے "قبول ہے" گواہوں کے سامنے نہیں کہا۔ مزید یہ کہ لڑکی کے والدین کو بھی اس نکاح کا کوئی علم نہیں ہے۔ اس نکاح میں دو گواہ بھی موجود نہیں تھے، صرف لڑکا، اس کا دوست اور مولوی موجود تھے، اور مولوی نے کہا کہ اتنے لوگ ہی کافی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کیا گیا نکاح درست ہوگا یا نہیں؟
واضح ہوکہ نکاح کی صحت و درستگی کے لئے فریقین (لڑکاولڑکی)کا بذات خود یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں کاایک ہی مجلس میں دوگواہان کے سامنے ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے،چنانچہ نکاح خواں اگر وکیل نہ ہو ، تو وہ خود بھی عقد نکاح میں گواہ بن سکتا ہے،لیکن صورت مسئولہ میں اگر سائلہ خود اس عقد کی مجلس میں موجود نہ ہو ،نہ ہی اس مجلس میں موجود افراد میں سےکسی کو اس نے وکیل بنایا ہو ،تو ایسی صورت میں یہ نکاح منعقد نہیں ہوا ،اور اس بنیاد پر دونوں کا باہمی بے تکلفی کا تعلق قائم کر نابھی جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے،نیز اولیا سے چھپ کر اس طرح نکاح کرنا ناپسندیدہ اور معیوب عمل ہے،اور بہت سارے مفاسد کاپیش خیمہ بھی ہے،اسلئے چھپ کرنکاح کر نے سےبھی مکمل اجتناب چاہیے۔
کمافي الدر المختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول:اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال (وفي مقام آخر)(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)علی الأصح (باب النکاح،ج:3،ص:14،ط:سعید)
وفی ردالمختار:تحت(قولہ ولایۃ ندب)ای یستحب للمرأۃ تفویض امرھا الی ولیھا کی لاتنسب الی الوقاحۃ(فصل ولایۃالندب والاستحباب فی النکاح،ج:3،ص:55،ط:سعید)
وفی الھندیہ: يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود،كذا في التتارخانية(الباب السادس فی الوکالۃ بالنکاح وغیرھا،ج:1،ص:194،ط:ماجدیہ)۔