نکاح

گھر والوں کی اجازت کے بغیر کورٹ میرج کرلینا درست طرز عمل ہے؟

فتوی نمبر :
85943
| تاریخ :
2025-09-07
معاملات / احکام نکاح / نکاح

گھر والوں کی اجازت کے بغیر کورٹ میرج کرلینا درست طرز عمل ہے؟

میرا نام حارث ہے، میری عمر 35 سال ہے، میرا مسئلہ یہ ہے جس کے لیے آپ کا فتوی درکار ہے کہ 2018 سے 2020 تک میں نے ایک رشتے میں دلچسپی لی ،اور پھر وہاں پر بات چلی اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لڑکی عالمہ تھی، پسند کرتی تھی، لیکن فرقہ الگ ہونے کی وجہ سےتین سال کے بعد معاملہ ختم ہو گیا، اس کے بعد دو سال تک مجھے کوئی مناسب رشتہ نہیں ملا، پھر میں نے 2022 کے آخر میں ایک رشتہ جو مجھے مناسب لگا ،میں نے ادھر پیغام بھیجا، آن لائن رشتےوالا گروپ تھا، لڑکی سے ڈائریکٹ بات ہو گئی، میں نے لڑکی کو تصویر بھیجی اپنی اور سب معاملات بتا دیے، تو اس نے پسند کا اظہار کیا ،میں بھی مطمئن ہو گیا اسی رشتے پر، اب جب میں نے اس لڑکی کے گھر بات کرنی چاہی تو اس کے والد صاحب بیمار ہو گئے،اورمختلف وجوہات کی بنا پر ملاقات کی کوئی صورت نہ بن سکی ،یہاں تک کہ سات ماہ بعد ان کا انتقال ہو گیا ،عدت گزر جانے کے بعد میں نے اس رشتے کو آگے بڑھانا چاہا، پر ان کے گھر ڈکیتی ہو گئی اور سب کچھ زندگی کی کمائی لوٹ لی گئی، ان کو مجبورا ًاپنے نانا کے پاس گاؤں میں شفٹ ہونا پڑا ،اب وہاں پہ ان کے حالات بہت بگڑتے چلے گئے، لڑکی کا ایک بڑا بھائی ہے، جو کماتا تھا ،لیکن اس سے گھر کا نظام چلنا بہت مشکل ہو گیا تھا ،لڑکی پڑھتی تھی یونیورسٹی میں، تو کچھ وہ آن لائن کام کر کے گھر پیسے دیتی رہتی تھی، رشتے کی بات کرتے کرتے دو سال گزر گئے اور نہ بات آگے بڑھی ،اور نہ ہماری فیملیز آپس میں مل سکیں، حالانکہ دونوں کی فیملیز کو پتہ ہے کہ رشتے کی بات ایک دوسرے سے کرنی ہے لیکن لڑکی والوں کی طرف سے مناسب جواب نہ آنے پر ملاقات نہ ہو سکی، لڑکی نے جب بار بار رشتے کی بات جو کہ ایک جائز حق تھا اداب و احترام کی دائرےمیں رہ کر اپنی والدہ اور بھائی سے کرنا شروع کی ، تو وہ لوگ اس لڑکے اور لڑکی کے مخالف ہونا شروع ہو گئے، پھر اچانک لڑکی کی والدہ کو دل کا دورہ ہوا، اور وہ آپریشن کے دوران کوما میں چلی گئی،چھ ماہ سےکومےمیں ہی ہے اور لڑکی خود میڈیکل کی لائن سے ہے تو ان کو بھی پتہ ہے اور شاید آپ بھی جانتے ہو کہ اتنا عرصہ کوما کے بعد بندہ جب ہوش میں آتا ہے تو اس کی یادداشت بہت حد تک متاثر ہو چکی ہوتی ہے، اب کچھ معاملات کی وجہ سے معاملہ مزید آگے جاتے ہوئے ختم ہوتا ہوا نظر آرہا ہے، تو میرا سوال یہ ہے کہ میری عمر پہلے ہی 35 سال ہو گئی ہے، مزید لٹکانا مناسب نہیں،جبکہ میں شادی یہاں ہی کرنا چاہتا ہوں ،اور اب اس عمر میں مناسب رشتہ نہیں مل سکے گا کیونکہ میں ڈھونڈ کر دیکھ چکا ہوں، دوسرا سوال یہ ہے کہ مجھے ایک مفتی صاحب سے یہ سارا مسئلہ بیان کرنے کا اتفاق ہوا تو انہوں نے کہا کہ اپ کورٹ میرج کر لیں میں نے اعتراض کیا کہ ولی جو لڑکی کا بھائی اس کی اجازت نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ احناف کے نزدیک تو ولی کی اجازت ضروری نہیں، لیکن لڑکی اگر خود مختار ہے اور سمجھدار ہے تو وہ خود نکاح کر سکتی ہے، ولی کسی ایسے شخص کو منتخب کر ےجو لڑکی کو جانتا ہوں اچھی طریقے سے ،مجھے آپ سے اس کے متعلق مشورہ بھی چاہیے کہ کیا ممکن راستہ نکل سکتا ہے اس رشتے کو نکاح میں جوڑنے کے لیے، اور ساتھ میں جو مفتی صاحب نے کورٹ میرج یا نکاح خواہ کی موجودگی میں لڑکی کی بھائی کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کی رائے دی ہیں وہ کس حد تک درست ہیں، جو کہ لڑکی کے گھر والے کبھی حق میں نہیں ہوں گے،چاہے جو بھی کر لیا جائے ابھی تک لڑکا اور لڑکی دونوں ان کے لیے بہت کچھ کر چکے ہیں اقتصادی مدد بھی کی ہے، لیکن وہ لوگ مخالفت میں بڑھتے جا رہے ہیں، اور اب لڑکی کے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا ،اور دو جگہ ٹانگ ٹوٹ گئی، لیکن لڑکی کو اجازت نہیں ہے کہ بھائی سےملاقات کرائےتو اس لیے میں نہیں مل سکتا ان لوگوں کو اور لڑکی نے بھی صاف کہا ہے کہ گھر کے لوگ آپ سے نہیں ملنا چاہتے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا اگر مذکور لڑکی سے فقط موبائل کی حد تک رابطہ ہے،سائل کو اس کے خاندان اور اہلِ خانہ کے متعلق کوئی علم نہیں تو ایسی صورت میں سائل کا مذکور لڑکی کیساتھ کورٹ میرج کر لینا معاشرتی معیوب ہونے کے علاوہ اس میں دیگر کئی طرح کے ابہامات کا قوی اندیشہ ہے، لہذا سائل کو چاہیئےکہ اس طرح کے کورٹ میرج کرنے کے بجائے اپنےخاندان والوں کو اعتماد میں لیکر مکمل تحقیق اور پوری معلومات کے بعد باقاعدہ دونوں خاندانوں کی رضامندی سے نکاح کرے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
انعام اللہ حمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85943کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات