نکاح

عیسائی سے نکاح جائز ہے تو شیعہ سے کیوں جائز نہیں؟

فتوی نمبر :
85792
| تاریخ :
2025-09-01
معاملات / احکام نکاح / نکاح

عیسائی سے نکاح جائز ہے تو شیعہ سے کیوں جائز نہیں؟

میری بہن کی بیٹی کو یونیورسٹی کے لڑکے سے محبت ہوگئی ،دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، لیکن جب رشتے کے وقت مسلک پوچھا تو وہ لوگ شیعہ مسلک سے ہیں ،ویسے تو میرے علم کے مطابق شیعہ لڑکے سے شادی جائز نہیں ہے،لیکن اب دونوں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، آ پ براہِ مہربانی معلومات فراہم کر دیں کہ شادی جائز ہے یا نہیں؟ دونوں بچے یہ بھی کہتے ہیں کہ اہل کتاب سے جب شادی جائز ہے تو شیعہ سے بھی ہو سکتی ہے، اور یہ بھی بتادیں اگر یہ شادی جائز نہیں تو کیا اس میں شرکت کرنے والے بھی گناہگار ہوں گے؟جزاک اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شیعوں کے مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد و نظریات بھی مختلف ہیں ، اس لئے شیعوں کو کافر قرار دینے اور ان کے ساتھ مناکحت وغیرہ اختیار کرنے کے بارے میں تفصیل ہے ، وہ یہ ہے کہ جس شیعہ کے عقائد و نظریات یہ ہوں مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا مانتا ہو یا قرآن کریم میں تحریف کا قائل ہو، یا حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو، یا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا منکر ہو، یا اس قسم کا کوئی دوسرا قرآن کریم کے صریح امر کے خلاف کفریہ عقیدہ رکھتا ہو ، تو وہ بلاشبہ کافر ہیں، اور ایسے عقائد کے حامل شیعہ مرد سے سنی العقیدہ خاتون کا نکاح قطعاً جائز نہیں ، البتہ اگر کوئی شیعہ لڑکا بظاہر خود کو ان کے کفریہ عقائد سے مبرا قرار دیتا ہو، تب بھی وہ کسی سنی العقیدہ لڑکی کا کفوء نہیں ، لہٰذا نکاح کے معاملہ میں خوب احتیاط سے کام لینا چاہیے ، اور جوڑ کارشتہ تلاش کرنا چاہیئے ،جبکہ اہلِ کتاب لڑکی کے ساتھ نکاح کی اگرچہ گنجائش دی گئی ہے،بشرطیکہ وہ اپنے مذہب کی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہو،دہریہ اور لامذہب نہ ہو، لیکن اس کے باوجود اس کے ساتھ بھی نکاح کرنے کو علماء نے مکروہ تحریمی لکھا ہے، نیز اہلِ کتاب مرد کے ساتھ نکاح کسی حال میں شرعاً جائز نہیں، لہٰذا سائل کی بھانجی کو چاہیئے کہ اس معاملہ میں شریعت کا حکم ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی ضد سے باز آنے اور والدین کی خواہش کو ترجیح دینی چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الدر المختار: و لْيكن التوفيق ( أو ) الكافر بسبّ ( الشيخين أو ) بسبّ (أحدهما) فى البحر عن الجوهرة معزيًّا للشهيد من سبّ الشيخين أو طعن فيهما كفر و لا تقبل توبته، إلى قوله لكن في النهر و هذا لا وجد له في أصل الجوهرة اھ۔
و في الشامية: تحت ( قوله لكن فى النهر إلخ )---- نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، ‌أو ‌اعتقد ‌الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن ولكن لو تاب تقبل توبته،اھ ( مطلب مهم في حكم سب الشيخين، ج 4، ص 237،م: سعيد )
و فيها أيضا: (قوله يا رافضي) قال في البحر: ولا يخفى أن قوله يا رافضي بمنزلة يا كافر الیٰ قولہ قلت: وفي كفر الرافضي بمجرد السب كلام سنذكره إن شاء الله تعالى في باب المرتد، نعم لو كان يقذف السيدة عائشة رضي الله عنها فلا شك في كفره اھ(باب التعزير ،ج:4، ص :70، م: سعيد )
و في بدائع الصنائع : ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} [البقرة: 221]--- الٰی قولہ وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل: {أولئك يدعون إلى النار} [البقرة: 221]--- الٰی قولہ والنص وإن ورد في المشركين لكن العلة، وهي الدعاء إلى النار يعم الكفرة، أجمع فيتعمم الحكم بعموم العلة فلا يجوز إنكاح المسلمة الكتابي كما لا يجوز إنكاحها الوثني والمجوسي؛ لأن الشرع قطع ولاية الكافرين عن المؤمنين بقوله تعالى: {ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا} [النساء: 141] فلو جاز إنكاح الكافر المؤمنة لثبت له عليها سبيل، وهذا لا يجوز. (كتاب النكاح، ج 2، ص 271،م: سعيد ) –
وفي الفتاوى الهندية: الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، وإن كان يفضل عليا كرم الله تعالى وجهه على أبي بكر رضي الله تعالى عنه لا يكون كافرا إلا أنه مبتدع والمعتزلي مبتدع إلا إذا قال باستحالة الرؤية، فحينئذ هو كافر كذا في الخلاصة. ولو قذف عائشة - رضي الله تعالى عنها بالزنی كفر بالله إلى قوله من أنكر إمامة أبي بكر الصديق رضي الله عنه، فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح أنه كافر، وكذلك من أنكر خلافة عمر - رضي الله عنه- في أصح الأقوال كذا في الظهيرية إلخ (الباب فى أحكام المرتدين، ج 2، ص 264،م: ما جدية )
وفی التفسیر المظھری: ‌ونحن ‌نقول ‌بالكراهة كما صرح فى البدائع ووجه كراهة نكاح الامة الكتابية بل الحرة الكتابية ايضا استلزامه موالات الكفار وقد نهينا عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لم تر للمتحابين مثل النكاح رواه ابن ماجة عن ابن عباس وقال الله تعالى لا تتخذوا اليهود والنصارى أولياء۔اھ (ج:2،ص:،80،النساء)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: الكتابية: هي التي تؤمن بدين سماوي، كاليهودية والنصرانية. وأهل الكتاب: هم أهل التوراة والإنجيل، لقوله تعالى: ان تقولوا انما انزل الکتاب علیٰ طائفتین من قبلنا (الانعام:56)(9 /6653)۔ وقد أجمع العلماء على إباحة الزواج بالكتابيات، لقوله تعالى: ﴿اليوم أحل لكم الطيبات، وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم،وطعامكم حل لهم، والمحصنات من المؤمنات، والمحصنات من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم﴾ (المائدة:5)۔ والمراد بالمحصنات في الآية: العفائف، ويقصد بها حمل الناس على التزوج بالعفائف، لما فيه من تحقيق الود والألفة بين الزوجين، وإشاعة السكون والاطمئنان. والسبب في إباحة الزواج بالكتابية (إلی قوله) ويرجى إسلامها؛ لأنها تؤمن بكتب الأنبياء والرسل في الجملة. والحكمة في أن المسلم يتزوج باليهودية والنصرانية، دون العكس: هي أن المسلم يؤمن بكل الرسل، وبالأديان في أصولها الصحيحة الأولى، فلا خطر منه على الزوجة في عقيدتها أو مشاعرها، (إلی قوله) یكره ـ عند الحنفية والشافعية اھ (9/ 6653)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85792کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات