نکاح

بغیر گواہوں کے کئے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
85690
| تاریخ :
2025-08-29
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بغیر گواہوں کے کئے ہوئے نکاح کا حکم

بسم الله الرحمن الرحيم السلام علیکم!کیا میرا نکاح درست ہے؟میں کراچی میں رہتی ہوں اور میری عمر 40 سال ہے، 3 اپریل کو میری اس شخص سے لڑائی ہوئی، جو مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا، اس کے والد ہماری شادی کے خلاف ہے، بعد میں 18 جون 2022 کو اس شخص نے مجھے ملنے کے لیے بلایا تاکہ دیکھیں کہ کیا ہم اپنی لڑائی کے بارے میں بات کر سکتے ہیں، ہم لڑے کیونکہ اس نے میرے متوفی والد کی بے عزتی کی تھی،اس نے توہین اور قسم کھا کر مجھے اور میرے خاندان کو مزید بدنام کیا تھا، وہ معافی مانگنا چاہتا تھا، اس لئے میں اس سے ملنے کے لئےاس کے آبائی شہر مردان گئی،جب میں گاڑی میں بیٹھی ، تو اس نے نکاح مانگا، اور کہا کہ وہ بعد میں اپنے گھر والوں کو قائل کرے گا، بہت سارے جھوٹے وعدوں اور ہیرا پھیری کے بعد میں نے قبول کیا، کیونکہ مجھے یقین تھا کہ یہ فیصلہ ہمیشہ زنا سے بہتر ہے اور اگر ہم حلال طریقے سے اکٹھے ہوتے تو شاید اللہ ہمارے مسائل حل کر دیتا،میں نہیں جانتی تھی کہ نکاح شروع ہونے سے پہلے حق مہر پر خاص طور پر اتفاق کیا جاتا ہے، ہم اس کے ڈرائنگ روم میں اکیلے بیٹھے تھے (اس کا خاندان دوسرے گھر میں تھا)، اس نے اپنے بھائی کو بلایا ،جو حافظِ قرآن ہے، اس کے بھائی نے اپنے دو دوستوں (میں انہیں یا ان کے نام نہیں جانتی) کو میرے گواہ کے طور پر مقرر کیا اور انہیں واٹس ایپ کال پر شامل کیا، میں اور جس شخص سے میں نے شادی کی تھی ،وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے، جبکہ اس کا بھائی ان دو ( 2) دوستوں کے ساتھ واٹس ایپ پر گروپ کال پر تھا،اس کے بھائی نے نکاح شروع کیا اور پوچھا کہ کیا میں اپنے شوہر سے 100,000 روپے کے حق مہر کے ساتھ شادی کرنے پر راضی ہوں؟ میں نے کہا "ہاں" تاکہ اپنے شوہر کو شرمندہ نہ کروں، براہ ِکرم ذہن میں رکھیں کہ وہ بہت اچھی کمائی کرتا ہے اور اس کے خاندان میں جو عورت ہوتی ہے اسے عام طور پر سونا، جائیداد اور ماہانہ خرچ ان کی نکاح میں ملتا ہے، مجھے بھی اسی کی امید تھی لیکن اس نے صرف حق مہر کے طور پر 100,000 روپے کا ذکر کیا،نکاح کے بعد میں گھر واپس آگئی، میرا بھائی اور میری ماں نکاح میں موجود نہیں تھے کیونکہ میرے شوہر نے کہا کہ ہم انہیں کچھ دیر بعد بتائیں گے، جب اس کے والد شادی کے لئے راضی ہو جائیں، میرا کوئی بھائی یا میرا کوئی محرم میری نکاح میں موجود نہیں تھا، ہم نے کسی نکاح نامے پر دستخط نہیں کیے تھے، یہ سب زبانی طور پر ہوا،براہ ِکرم میری نکاح کے حوالے سے درج ذیل سوالات کے جوابات دیں اور مجھے بتائیں کہ آیا نکاح درست تھا؟میری نکاح میں میری طرف سے کوئی محرم موجود نہیں تھا،میں لالچی عورت نہیں ہوں کیونکہ میں خود PKR 100,000 سے زیادہ کماتی ہوں،تاہم میں نے صرف PKR 100,000 حق مہر پر اتفاق کیا تاکہ میرے شوہر کو اپنے بھائی اور اس کے بھائی کے دوستوں کے سامنے شرمندہ نہ کیا جائے،ہماری نکاح پر کاغذ پر دستخط نہیں تھے، یہ سب زبانی تھا،نکاح کو 3 سال ہو چکے ہیں اور وہ مجھے گھر نہیں لے گیا اور اپنے تمام وعدے توڑ دیے، وہ بطورِ بیوی میرے حقوق کو کسی بھی طرح پورا نہیں کرتا،اس نے مجھے دوستوں اور میرے وسیع خاندان سے الگ کر دیا ہے، وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ میں اپنی خواتین رشتہ داروں سے بات کروں،مندرجہ بالا معلومات کی بنیاد پر میرے سوالات یہ ہیں،کیا میرا نکاح واقعی شریعت کے مطابق درست ہے؟اگر یہ درست ہے ، تو کیا میں خلع عدالت سے لے سکتی ہوں کیونکہ وہ بطور شوہر میرے حقوق کو پورا نہیں کرتا؟فوری جواب کا انتظار رہے گا۔جزاک اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ جس شخص سے سائلہ نکاح کا ارادہ رکھتی تھی وہ سائلہ کا کفو ء اور ہم پلہ تھا یا نہیں ؟نیز سوال میں اس بات کی بھی صراحت نہیں کہ سائلہ کے ہونے والے شوہر کے بھائی نے سائلہ سے اس کی رضامندی معلوم کرنے اور سائلہ کی طرف سے ایک لاکھ روپے کے عوض نکاح کے لئے آمادگی ظاہر کرنے کے بعد اس نے نکاح منعقد کرنے کے لئے ایجاب و قبول کیا تھا یا نہیں ؟تاکہ اس کے مطابق حتمی جواب دیا جاتا ،تاہم اگر مذکور شخص سائلہ کا کفوءاور ہم پلہ نہیں تھا تو سائلہ نے اگراولیاءکی اجازت و رضامندی کے بغیر مہر مثل سے کم پر نکاح کیا ہو تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا ،اسی طرح مذکور شخص کے حافظ قرآن بھائی نے سائلہ کی رضامندی معلوم کرنے کے بعد اگر باقاعدہ ایجاب و قبول کراکر نکاح نہ کیا ہو تو بھی سائلہ اور مذکور شخص کے درمیان نکاح منعقد نہیں ہوا،چنانچہ مذکور ہ بالا تفصیل کے مطابق مذکور دونوں صورتوں میں سائلہ کے لئے مذکور شخص سے طلاق یا خلع لئے بغیر کسی دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا ، البتہ اگر مذکورشخص سائلہ کا کفویا اس سے اعلیٰ حیثیت کا ہو اور نکاح باقاعدہ ایجاب و قبول کے ذریعے ہوا ہو، البتہ نکاح کی مجلس میں گواہان موجود نہ ہوں بلکہ گواہ واٹس ایپ کال پر رابطے میں تھے تو ایسی صورت میں مجلس عقد کے اندر نصاب شہادت پورا نہ ہونے کی وجہ سے یہ نکاح شرعا درست منعقد نہیں ہوا ، بلکہ یہ نکاح فاسد ہے ،لہذا مرد پر لازم ہے کہ وہ الفاظ متارکہ جیسے "میں نے آپ کو چھوڑدیا " میں نے آپ کو طلاق دی " وغیرہ ،کہہ کر یہ نکاح ختم کرے ،یا سائلہ بذریعہ عدالت اپنا نکاح فسخ کرائے اور یہ چونکہ جسمانی تعلق قائم ہونے سے پہلے واقع ہوگا ،(جیسا کہ سوال سے یہی معلوم ہوتا ہے )اس لئے نہ شوہر پر مہر لازم ہوگا اور نہ بیوی پر عدت لازم ہوگی بلکہ نکاح ختم ہونے کے بعد سائلہ بغیر عدت گزارے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔جبکہ سائلہ کا نکاح سے قبل ایک غیر مرد سے تعلقات رکھنا اور پھر اس کی ملاقات کیلئے اس کے آبائی وطن چلے جانا اور اپنے اولیاء اور بڑوں کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنا شرعا ناجائز عمل تھا جس پر سائلہ کو بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے اس طرح کے اقدامات سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (و) شرط (حضور) شاھدین (حرین) أو حر وحرتین (مکلفین سامعین قولھما معا) علی الأصح (فاھمین) أنہ نکاح علی المذھب بحر (مسلمین لنکاح مسلمۃ ولو فاسقین أو محدودین فی قذف الخ (کتاب النکاح، ج:3، ص: 21 ،23 ط، ایچ ایم سعید)۔
وایضا فیہ: (و) يثبت (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه دخل بها أو لا) في الأصح خروجا عن المعصية. فلاينافي وجوبه بل يجب على القاضي التفريق بينهما (وتجب العدة بعد الوطء) لا الخلوة للطلاق لا للموت (من وقت التفريق) أو متاركة الزوج وإن لم تعلم المرأة بالمتاركة في الأصح الخ
وفی رد المحتار تحت: (قولہ بعد الوطء لا الخلوۃ) أی لا تجب بعد الخلوۃ المجردۃ عن الوطء ووجوب العدۃ بعد الخلوۃ ولو فاسدۃ إنما ھو فی النکاح الصحیح(إلی قولہ)(قوله: أو متاركة الزوج) في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لاتكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك و مجرد إنكار النكاح لايكون متاركةً. أما لو أنكر و قال أيضا: اذهبي وتزوجي كان متاركةً و الطلاق فيه متاركة، لكن لاينقص به عدد الطلاق، و عدم مجيء أحدهما إلى آخر بعد الدخول ليس متاركةً؛ لأنها لاتحصل إلا بالقول. و قال صاحب المحيط: و قبل الدخول أيضا لايتحقق إلا بالقول الخ (كتاب النكاح، باب المهر، مطلب في النكاح الفاسد، ج:3، ص:132، ط:ایچ ایم سعید)
وفی الھدایۃ: ولا ینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین او رجل وامرأتین (إلی قولہ) لقولہ ﷺ لا نکاح الا بشھود الخ (کتاب النکاح، ج: 6، ص: 306، ط: شرکت علمیہ)۔
وفی الھندیۃ: ويشترط العدد فلاينعقد النكاح بشاهد واحد، هكذا في البدائع. و لايشترط وصف الذكورة حتى ينعقد بحضور رجل و امرأتين، كذا في الهداية. و لاينعقد بشهادة المرأتين بغير رجل و كذا الخنثيين إذا لم يكن معهما رجل، هكذا في فتاوى قاضي خان الخ (کتاب النکاح، ج: 1، ص: 267، ط: ماجدیہ)۔
وایضا فیھا: إذا وقع النكاح فاسدًا فرق القاضي بين الزوج والمرأة فإن لم يكن دخل بها فلا مهر لها ولا عدة الخ (الباب الثامن في النكاح الفاسد وأحكامه،ج1، ص330،ط : ماجدیۃ)۔
و فی البحر الرائق: والتفريق في النكاح الفاسد إما بتفريق القاضي أو بمتاركة الزوج ولا يتحقق الطلاق في النكاح الفاسد بل هو متاركة فيه ولا تحقق للمتاركة إلا بالقول إن كانت مدخولا بها كقوله تاركتك أو تاركتها أو خليت سبيلك أو خليت سبيلها أو خليتها، وأما غير المدخول بها فتتحقق المتاركة بالقول وبالترك عند بعضهم وهو تركها على قصد أن لا يعود إليها وعند البعض لا تكون المتاركة إلا بالقول فيهما حتى لو تركها ومضى على عدتها سنون لم يكن لها ان تتزوج باخرالخ (کتاب النكاح، باب المهر،ج 3، ص185،، ط: دار الكتاب الاسلامي)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عاشق یونس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85690کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات