میرا سوال یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ عورت کو حج کروانا اُس کے باپ یا شوہر کی ذمہ داری ہے ،لیکن اگر کوئی عورت ملازمت کرتی ہو اور اس کے پاس اتنے پیسے ہوں کہ وہ حج کر سکے تو حج پر جانے کے لیے اس عورت کو اپنے پیسوں سے جانا ہوگا یا شوہر کی ذمہ داری ہے ؟ اُس عورت سے ان پیسوں پر آخرت میں حج کے متعلق سوال ہو گایا نہیں ؟
بیوی اگر صاحبِ استطاعت ہو اور محرم کا خرچہ بھی حج پر آنے جانے کا برداشت کر سکتی ہو تو اس پر حج کرنا فرض ہے ، اب اگر یہ خرج شوہر برداشت کرے تو اس کا حج پھر بھی درست کہلائے گا، اگر چہ شوہر پر بیوی کو حج کروانا یا اس کے حج کے اخراجات اٹھانا لازم نہیں۔
کما قال اللہ تعالی : وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ (آلِ عمران /97)۔
و فی الدر : (و) مع (زوج أو محرم) ولو عبدا أو ذميا أو برضاع (بالغ) قيد لهما كما في النهر بحثا (عاقل والمراهق كبالغ) (الی قوله ) (مع) وجوب النفقة لمحرمها (عليها) لأنه محبوس (عليها) اھ (2/464)۔