کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے قومی املاک کو نقصان پہنچایا ،تو اب یہ شخص اس کا ازالہ کرنا چاہتا ہے جبکہ حال یہ ہے کہ شرعی حکومت بھی نہ ہو تو ازالہ کا طریقہ کار کیا ہوگا؟
نوٹ: واضح ہو کہ قومی املاک سے مراد یہ ہے کہ بندہ نے سرکاری اسکول کا کچھ سامان ٹیبل چاک ڈسٹر وغیرہ قبضہ میں لیے لیا ہے اور وہ چیزیں بندے کے پاس اب موجود بھی نہیں ہے برائے کرام اس کے گناہ سے سبکدوش ہونے کا طریقہ بتا کر ممنون ہوں۔
سائل پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ و استغفار کرے اور ممکنہ طریقے سے مذکور اشیاء یا ان کی قیمت مذکور اسکول کے مجاز افسران کو واپس لوٹا دے تاکہ مواخذہ اخر وی سے بھی سبکدوش ہو سکے۔
کما الدرالمختار: (ويجب رد عين المغصوب) (في مكان غصبه) (ويبرأ بردها ولو بغير علم المالك) (أو) يجب رد (مثله إن هلك وهو مثلي وإن انقطع المثل) بأن لا يوجد في السوق الذي يباع فيه وإن كان يوجد في البيوت ابن كمال (فقيمته يوم الخصومة) أي وقت القضاءالخ (6 /182)۔