کیا شادی کے بعد عور ت شوہر کے رویّے ( بار بار ہراساں کرکے بینک سے پیسے نکلواکر نہ دینے کی صورت میں طلاق کی دھمکیاں دینے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دینے ) کے بعد شوہر سے خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے، جبکہ وہ حاملہ بھی ہو؟ اگر خلع لے سکتی ہے تو بعد از عدت ہونے والے بچے کی کفالت کا ذمہ دار کون ہوگا بچے کی ماں یا بچے کا باپ؟ شریعت کے مطابق کتنے عرصے تک ماں بچے کی پرورش کی قانونی حق دار ہے؟ کیا اس عرصے میں ماں دوسری شاد ی کرسکتی ہے؟ میں حاملہ ہوں اس وقت اپنے شوہر اور سسرالیوں کے رویہ اور دھمکیوں کی وجہ سے میں اپنے ماں باپ کے پاس ہوں اور فوری طور پر علیحدگی چاہتی ہوں، کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتی۔ کیا اس صورت میں اس وقت خلع لے سکتی ہوں؟
سائلہ کا بیان اگر حقیقت پر مبنی ہواور اس میں کسی قسم کی مبالغہ آرائی اور غلط بیانی کا سہارا نہ لیا گیا ہو تو اس کے شوہر کا مذکور رویہ انتہائی نامناسب اور خلافِ شریعت ہے، جس سے بہر صورت احتراز کرنا چاہیئے، اور اپنی بیوی سے حسن ِ معاشرت کے ساتھ زندگی گزارنے اور اس کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کرنی چاہیئے۔ جبکہ سائلہ کو بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئےمعمولی اور خلافِ طبیعت باتوں کو بنیاد بناکر طلاق اور خلع جیسے ناپسندیدہ اور مبغوض ترین مطالبہ سے گریز کرنا چاہیئے، کیونکہ احادیثِ طیبہ میں ایسی عورت جو بلا وجہ شوہر سے مطالبۂ طلاق کرے اس سے متعلق سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ” جو بھی عورت اپنے شوہر سے بغیر کسی شرعی عذر کے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے“۔ لہذا سائلہ کو اولاً ہر ممکن اپنا گھر بچانے کی فکر کرنی چاہیئے جس کےلئے دونوں گھرانوں کے بڑوں کے ساتھ مل بیٹھ کر افہام و تفہیم کے ذریعے معاملہ کا حل نکالنے کی کوشش کریں ۔ تاہم اگر اصلاح کی کوششیں کار آمد نہ ہو سکیں اور میاں بیوی دونوں علیحدگی پر متفق ہوں تو طلاق کے ذریعے اس رشتہ کو ختم کردینا بہتر ہے لیکن اگر سائلہ کا شوہر اسے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو عدالت کے ذریعہ خلع کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے تاہم اس صورت میں عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری علیحدگی کےلئے کافی متصور نہ ہوگی بلکہ شوہر کا عدالت حاضر ہوکر اس خلع کے معاہدے پر اپنی رضامندی کا اظہار کرنا ضروری ہوگا، لہٰذا اگر میاں بیوی کے درمیان طلاق یا خلع کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس صورت میں لڑکے کی عمر سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال مکمل ہونے تک ان کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہوگا۔ بشرطیکہ وہ اس دوران بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرلےیا وہ خود اپنے حق سے دستبردار نہ ہو جائے، اور اگر ماں اس دوران بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح کرلے تو پھر بچے کی پرورش کی حق دار نانی ہوگی اور اگر بچوں کی نانی موجود نہ ہو یا کسی عذر کی وجہ سے وہ پرورش کرنے سے معذور ہو یا وہ انکار کردے تو پھر بچوں کی پرورش کا حق ان کی دادی کو حاصل ہوگا۔ اور اس دوران بچے کے پرورش پر آنے والے تمام اخراجات کی ذمہ داری بچے کے والد پر لازم ہوگی۔ جبکہ حق ِ حضانت کی مدت مکمل ہونے پر اگر والد بچوں کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتا ہے۔ اسی طرح اس مدت سے قبل بھی اگربچوں کی والدہ اپنا حقِ پرورش چھوڑ کر انہیں والد کی تحویل میں دینا چاہے تو اس کا بھی اختیار حاصل ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی سنن الترمذی: عن ثوبان: أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال: ( أیما امرأۃ سألت زوجھا طلاقا من غیر بأس، فحرام علیھا رائحۃ الجنۃ)۔ الحدیث۔ ( باب ما جاء فی المختلعات، ج 1، ص 226، رقم: 1187، ط: دار السلام )۔
و فی البحر الرائق: تحت (قولہ و ھو رفع القید الثابت شرعابالنکاح) و أما سببہ فالحاجۃ إلی الخلاص عند تباین الأخلاق و عروض البغضاء الموجبۃ عند عدم إقامۃ حدود اللہ تعالی و شرع رحمۃ منہ سبحانہ و أما صفتہ فھو أبغض المباحات إلی اللہ تعالی و فی المعراج إیقاع الطلاق مباح و إن کان مبغضا فی الأصل عند عامۃ العلماء و من الناس من یقول لا یباح إیقاعہ إلا لضرورۃ کبر سن أو ریبۃ لقولہ علیہ السلام لعن اللہ کل مذواق مطلاق و لنا إطلاق الآیات فإنہ یقتضی الاباحۃ مطلقا و طلق النبی صلی اللہ علیہ وسلم حفصۃ رضی اللہ عنھا فأمرہ اللہ تعالی أن یراجعھا (إلی قولہ) و قد روی أبو داود عن ابن عمر مرفوعا أبغض الحلال إلی اللہ تعالی عز و جل الطلاق (إلی قولہ) أن الاصل فی الطلاق ھو الحظر لما فیہ من قطع النکاح الذی تعلقت بہ المصالح الدینیۃ و الدنیاویۃ و الاباحۃ للحاجۃ إلی الخلاص (إلی قولہ) و فی غایۃ البیان یستحب طلاقھا إذا کانت سلیطۃ مؤذیۃ أو تارکۃ للصلاۃ لا تقیم حدود اللہ تعالی إلخ۔ (کتاب الطلاق، ج 3،ص 235۔238،ط: ماجدیۃ)۔
فی المبسوط للسرخسی: قال: و الخلع جائز عند السلطان و غیرہ؛ لأنہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود، و ھو بمنزلۃ الطلاق بعوض إلخ۔ ( باب الخلع، ج 6، ص 173، ط: السعادۃ )۔
و فی الھدایۃ: و إذا تشاق الزوجان و خافا أن لا یقیما حدود اللہ، فلا بأس بأن تفدی نفسھا منہ بمال یخلعھا بہ إلخ۔ ( باب الخلع، ج 2، ص 404، ط: شرکت علمیۃ )۔
و فی الدر المختار: ( تثبت للأم ) ( إلی قولہ ) ( و لو ) ( إلی قولہ ) (بعد الفرقۃ إلا أن تکون مرتدۃ ) ( إلی قولہ ) ( أو فاجرۃ ) فجورا یضیع الولد بہ کزنا و غناء و سرقۃ و نیاحۃ ( إلی قولہ ) ( أو غیر مأمونۃ ) ذکرہ فی المجتبی بأن تخرج کل وقت و تترک الولد ضائعا ( إلی قولہ ) ( أو متزوجۃ بغیر محرم ) الصغیر ( إلی قولہ ) ( ثم ) أی بعد الأم بأن ماتت أو لم تقبل أو أسقطت حقھا أو تزوجت أجنبی ( أم الأم ) و إن علت عند عدم أھلیۃ القربی ( ثم أم الأب و إن علت ) بالشرط المذکور ( إلی قولہ ) ( و ) الحاضنۃ ( یسقط حقھا بنکاح غیر محرمۃ ) أی الصغیر ( و کذا بسکناہ عند المبغضین لہ؛ لما فی القنیۃ: لو تزوجت الأم بآخر فأمسکتہ أم الأم فی بیت الراب فلأب أخذہ ( إلی قولہ ) ( و الحاضنۃ ) أما أو غیرھا ( أحق بہ ) أی بالغلام حتی یستغنی عن النساء و قدر بسبع ( إلی قولہ ) ( و الأم و الجدۃ ) لأم أو لأب ( أحق بھا ) بالصغیرۃ ( حتی تحیض ) أی تبلغ إلخ۔ ( باب الحضانۃ، ج 3، ص 555۔566، ط: سعید )۔
و فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: و أجمع الناس علی جواز الطلاق، و المعقول یؤیدہ، فإنہ ربما فسدت الحال بین الزوجین، فیصیر بقاء الزواج مفسدۃ محضۃ، و ضررا مجردا، بإلزام الزوج و النفقۃ و حبس المرأۃ مع سوء العشرۃ، و الخصومۃ الدائمۃ من غیر فائدۃ، فاقتضی ذالک شرع ما یزیل الزواج لتزول المفسدۃ الحاصلۃ منہ (إلی قولہ) الطلاق إذن ضرورۃ لحل المشکلات الأسرۃ، و مشروع للحاجۃ و یکرہ عند عدم الحاجۃ، للحدیث السابق (لیس شیئ من الحلال أبغض إلی اللہ تعالی من الطلاق)(إلی قولہ) و إنما الطلاق تشریع استثنائی للضرورۃ بعد أن یسلک الزوج المراحل الآتیۃ: و ھی المعاشرۃ بالمعروف و الصبر و تحمل الأذی، ثم الوعظ و الھجر و الضرب الیسیر، ثم إرسال الحکمین إلخ۔ ( الباب انحلال الزواج و آثارہ،فصل الطلاق،ج 7،ص245،ط: رشیدیۃ)۔