کسی معذور انسان کو زکوٰۃ کے پیسے دیئے گئے ہوں توکیا وہ ان پیسوں سے حج یا عمرہ ادا کر سکتا ہے؟
اگر مذکور معذور شخص مستحق زکوٰۃ ہو، تو اسےزکوٰۃ دینا جائز ہے اور زکوٰۃ کی رقم ملنے کے بعدوہ اس رقم کا مالک بن جائیگا،اس لیے ملکیت حاصل ہوجانے پر وہ اس رقم سے حج یا عمرہ ادا کرسکتاہے،شرعاً اس پر کوئی پابندی نہیں ،البتہ جب شریعت نے اسے استطاعت نہ ہونے کی وجہ اس عمل سے چھوٹ دی ہے تو بلاوجہ خود کو محض جذباتیت کی وجہ سے مشقت میں ڈالنا مناسب نہیں،جس سے احتراز چاہیئے۔
کما فی الدر المختار:ويشترط أن يكون الصرف (تمليكًا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) الخ (کتاب الزکوۃ،باب المصرف، ج:2، ص: 344، ط: ایچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ: أما تفسیرها فھي تملیك المال من فقیر مسلم غیر هاشمي ولامولاہ بشرط قطع المنفعة عن المملك من کل وجه لله تعالی هذا في الشرع (إلی قولہ ) وأما شرط ادائھا فنیۃ مقارنۃ للاداء أو لعزل ماوجب ھکذا فی الکنز الخ (کتاب الزکوۃ، الباب الاول فی تفسیرالزکوۃ،ج:1 ص:170،ط: ماجدیہ)۔
وفیھا ایضاً: ولا یجوز دفع الزکاۃ إلی من یملک نصابا أی مال کان دنانیرا أو دراھم أو سوائم أو عروضا للتجارۃ الخ (الباب السابع فی المصارف، ج: 1، ص: 189، ط: ماجدیہ)۔