گناہ و ناجائز

جو ائنٹ فیملی سسٹم میں اپنے دیور اور جیٹھ سے پردہ کیسے کریں ؟

فتوی نمبر :
84894
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

جو ائنٹ فیملی سسٹم میں اپنے دیور اور جیٹھ سے پردہ کیسے کریں ؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہناشر عا کیسا ہے ؟ اور اس میں اپنے دیور اور جیٹھ وغیرہ سے پردہ کرنالازم ہے یا نہیں ؟ اس کی پوری تفصیل بیان فرمادیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر عورت پر اپنے محارم رشتہ داروں اور شوہر کے علاوہ تمام غیر محرم مردوں سے پردہ کرنا واجب ہے، چاہے وہ غیر محرم اس کے یا اس کے شوہر کے رشتہ دار ہوں یا کوئی اور، لہٰذا ہر خاتون پر لازم ہے کہ سسرال اور میکے دونوں مقامات پر پردے کا اہتمام کریں، جہاں تک پردہ شرعی کا تعلق ہے، تو ایک ساتھ رہتے ہوئے بھی ممکن ہے ، جس کی صورت یہ ہے کہ باہر سے آنے والے مرد بے دھڑک گھر میں داخل نہ ہوں، بلکہ کنڈی کھٹا کر کھنگار کر گھر کی عورتوں کو سنبھلنے کا موقع دیں، گھر کی عورتیں بھی بلا ضرورت غیر محارم کے سامنے آنے اور بے تکلفی اختیار کرنے سے احتراز کریں اور غیر محارم کو باہم خلوت کا موقع بھی نہ دیں، اور نہ ہی ان کی موجودگی میں اپنے شوہر یا دیگر محارم سے آزادی کی باتیں کریں ، اور گھر کا کام کاج کرتے وقت گھونگھٹ ڈالنے کی کوشش کریں، چنانچہ ان احتیاطوں کے باوجود اگر نظر پڑے یا آمنا سامنا ہو جائے تو وہ شرعاً معاف ہے۔
اور غیر محارم میں، دیور اور جیٹھ بھی داخل ہیں ، لہذا ان سے بھی پردہ کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح البخاري: عن عقبة بن عامر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إياكم والدخول على النساء» فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو؟ قال: «الحمو الموت» اھ (7/ 37)۔
و في الهامش علی صحيح البخاري: (إياكم والدخول على النساء) احذروا من الدخول على النساء غير المحارم ومنع الدخول يستلزم منع الخلوة من باب أولى. (أفرأيت الحمو) أخبرني عن دخول الحمو على المرأة والمراد بالحمو أقارب الزوج من غير المحارم كالأخ والعم والخال وأبنائهم. (الحمو الموت) لقاؤه الهلاك لأن دخوله أخطر من دخول الأجنبي وأقرب إلى وقوع الجريمة لأن الناس يتساهلون بخلطة الرجل بزوجة أخيه والخلوة بها فيدخل بدون نكير فيكون الشر منه أكثر والفتنة به أمكن] (7/ 37)۔
و في عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (الحمو الموت) (إلی قوله) قال النووي: المراد من الحمو في الحديث أقارب الزوج غير آبائه وأبنائه لأنهم محارم للزوجة يجوز لهم الخلوة بها، ولا يوصفون بالموت. قال: وإنما المراد: الأخ وابن الأخ والعم وابن العم وابن الأخت ونحوهم (20/ 213)۔
و في التتارخاني : و في تجنيس خواهر زاده : ولا يحرم على الواطي ولا علي أبیه وله الموطؤة ولا أمھاتها (إلى قوله) تحرم الموطؤة علی أصول الواطي وفروعه، ويمر على الواطى أصولها وفروعها اھ (۴/ ۴۹) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسد اللہ قلاتی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84894کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات