میں ایک ایسے شخص کو جانتی ہوں ،جس نے اپنی بہن کو نامناسب طریقے سے چھوا، حتیٰ کہ زیادتی کی کوشش بھی کی۔ لیکن اب وہ اس پر بے حد شرمندہ ہے اور شرمندگی کی وجہ سے اسے ذہنی مسائل بھی لاحق ہو چکے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کے مطابق اسے کسی قسم کی سزا دی جانی چاہیے؟ اور کیا مجھے اس سے شادی کرنی چاہیے یا نہیں؟ اگرچہ اب اس کا اللہ سے تعلق بہت مضبوط ہو چکا ہے۔
واضح ہو کہ کسی شخص کا اپنی بہن کو شہوت کیساتھ چھونا نہایت ہی سنگین گناہ کبیرہ اور قبیح عمل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو اپنے محارم کا محافظ اور ان کی عزت و عصمت کا نگہبان بنایا ہے،اگر محافظ خود ہی بےحرمتی کرنے لگے ،تو یہ نہ صرف شریعت کی خلاف ورزی ہے، بلکہ سخت وبال کا سبب بھی ہے۔ لیکن مذکور شخص اب چونکہ نادم ہے اور اللہ تعالیٰ سے معافی بھی طلب کر چکا ہے ،لہذا اس پر مزید سختی کر کے اس کو شرمندہ کرنا مناسب نہیں، جبکہ سائلہ اگر مذکور شخص کی توبہ اور رجوع الی اللہ کر لینے کے بعد اس کے کردار سے مطمئن ہو اور وہ نکاح کے بعد اس کی ضروریا ت اور حقوق کی ادائیگی کی قدرت رکھتا ہو ،تو اس کا مذکو ر شخص کے ساتھ اولیاء کی رضامندی سے نکاح کرنا درست ہے ،اس میں شرعا ًکوئی جرم نہیں۔