نکاح

لڑکی سے زبانی ایجاب یا قبول نہ کروانے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
84634
| تاریخ :
2025-07-27
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی سے زبانی ایجاب یا قبول نہ کروانے نکاح کا حکم

اگر لڑکی سے ایجاب و قبول نہ کیا گیا ہو یعنی زبانی اجازت نہیں ہوئی بس نکاح نامہ پر وکیل صرف دستخط لے اجازت کے طور پ مولانا سے کہا جائے کہ نکاح کی اجازت مل گئی ہے، پھردولہا سے ایجاب و قبول نکاح ہو جاتا ہے
سوال یہ ہے کہ اگر لڑکی انگلش میں سائن کرتے ہوئے املا کی غلطی کرتی ہے جیسے لڑکی کا صحیح نام ہے Umme, Kulsum لیکن اسنے دستخط Umme Qulsum نام سے کیا جو کے املا گلت ہے لیکن مولانا نے نام کی تفصیلات کے کالم میں اردو میں صحیح نام ام کلثوم لکھا اور دولہا سے ایجاب و قبول نکاح ہو جاتا ہے
کیا دستخط مے گلتی کرنے سے ہونے والے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟ بعد میں جب لڑکی سے پوچھا گیا کہ اس نے اپنا نام Umme Qulsumکیوں لکھا جب کہ صحیح نامUmme, Kulsum ہے۔ اس نے کہا کہ ٹیچر نے سکول میں غلطی سے لکھ دیا تھا، اس لیے مجھے ہر جگہ ایسا ہی لکھنا پڑتا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ عاقلہ بالغہ لڑکی کا گواہوں کی موجودگی میں نکاح نامہ پر دستخط کرنا اس کی طرف سے اجازت شمار ہوگی،البتہ نکاح کے انعقاد کیلئے لڑکا ،لڑکی یاان کے وکیلوں کا گواہوں کی موجودگی میں زبانی ایجاب و قبول کرنا ضروری ہوتا ہے،صرف لکھنے سے نکاح منعقد نہیں ہوتا،جبکہ مذکور عذر کی بنیاد پر دستخط پر املاء کی غلطی سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا،بلکہ دونوں کانکاح بدستور برقرار رہیگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار:(او ھو فی معناہ )من فعل یدل علی الرضاوفی الشامی تحت (قولہ لان رضاھما یکون بالدلالۃ ) فتخلص المصنفؒ عن ذٰلک بزیادۃ قولہاو ھو معناہ الخ لکن اجاب فی الفتح بان الحق ان لکل من قبیل القول الاالتمکین فیثبت دلالۃ لانہ فوق القول ای لانہ اذاثبت الرضا بالقول یثبت بالتمکین من الوطء بالاولٰی لانہ ادل علی الرضا ۔(باب الولی ،ج:3 ص:62،63 م:سعید)۔
وفیہ ایضاً: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك(و) يقول الآخر (تزوجت)۔وفي الشامي:تحت (قوله: كزوجت نفسي إلخ) ‌أشار ‌إلى ‌عدم ‌الفرق ‌بين ‌أن ‌يكون ‌الموجب أصيلا أو وليا أووكيلا۔وفیہ:تحت (قوله: ويقول لآخر تزوجت) أي ‌أو ‌قبلت ‌لنفسي ‌أو ‌لموكلي أو ابني، وموكلتي ط۔(كتاب النكاح،ج:3،ص:9،10،م:سعید۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84634کی تصدیق کریں
0     310
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات