کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے مدرسہ و مسجد کے سامنے ایک اصطبل ہے، جس کا راستہ ہماری مملوکہ زمین میں سے گزرتا ہے، یہ راستہ ہمارے آباؤ اجداد نے مقرر کیا تھا کہ اصطبل کے لئے یہی راستہ ہوگا، پھر چونکہ گاؤں میں جانوروں کو چارہ ڈالنے اور پانی پلانے کا کام عموماً خواتین کرتی ہیں، اس لئے ہماری مسجد و مدرسہ کے سامنے اسی راستہ پر خواتین کا گذر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بے پردگی اور طلباء کو پریشانی ہوتی ہے۔
جب مذکور اصطبل کو بیچنے کی بات ہوئی، تو ہم نے کہا کہ یہ ہمیں بیچ دو ،ایک تو اس وجہ سے کہ یہ ہماری زمین کے قریب ہے ،اور ہمیں حقِ شفعہ حاصل ہے،دوسرا ا س لئے کہ ہم اسے مسجد و مدرسہ میں داخل کر لینگے، تا کہ بے پردگی اور اسی بنا پر طلباء کو ہونے والی پریشانی کا ازالہ ہو سکے ،مگر مالک ( جو کہ رشتہ میں ہمارے چچا لگتے ہیں ) نے وہ اصطبل ہمیں بیچنے کے بجائے کسی اور کو بیچ دیا ،اس تفصیل کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ حضرات بتائیں کہ کیا ہم مذکور راستے کو بند کرنے کا حق رکھتے ہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں واضح جواب عنایت فرمائیں جزاکم الله، ثم جزاکم اللہ
نوٹ: (۱) مذکور اصطبل کی طرف جانے کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں ، (۲) :مذکور راستہ بند کرنے سے فتنہ و فساد برپا ہونے کا اندیشہ بھی ہے۔ (۳) مذکور راستہ اور اصطبل شروع میں ایک شخص کی ملکیت تھے، اب بھائیوں میں تقسیم ہوئی تو اصطبل ایک کا ہے اور زمین یعنی راستہ دوسرے کا ، (۴) :یہ عام راستہ نہیں ہے، بلکہ صرف اصطبل تک کے لئے ہے، جبکہ راستہ والی زمین سائل کی مملوک ہے۔(۵) :مدرسہ میں دونوں قسم کے طلباء زیر تعلیم ہیں مقامی غیر رہائشی اور مسافر رہائشی بھی۔ (۶) : مسجد و مدرسہ کی چار دیواری نہیں ہے اور یہ اصطبل مسجد و مدرسہ سے پانچ فٹ کے فاصلہ پر ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اصطبل کی طرف جانے کے لئے مذکور راستہ اگرچہ سائل کی مملوکہ زمین سے گزرتا ہے، مگر جب وہ پہلے ہی سے سائل کے آباؤ واجداد کی طرف سے مقرّر شدہ ہے، تو یہ شرعاً بھی گزرنے والوں کا حق بن چکا ہے، لہذا ان کی رضا مندی کے بغیر اُسے بند کرنا یا گزرنے والوں کو وہاں سے روکنا خصوصاً جبکہ اس صورت میں فتنہ و فساد برپا ہونے کا اندیشہ بھی ہے، شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
تاہم خواتین پر لازم ہے کہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے مکمل طور پر پردہ کا اہتمام کریں ،تاکہ بے پردگی جیسے گناہ عظیم سے اجتناب اور طلباء کی پریشانی کا ازالہ ہو سکے ، اور اگر مذکور اصطبل بجائے باہر بیچنے کے سائل پر بیچنے دیا جائے ،تو یہ کئی ایک فتنوں کا سد باب بن سکتا ہے۔
کما فی شرح المجلة : اذا كان لاحد حق المرور فی عرصة آخر فليس لصاحب العرصه ان يمنعه من المرور والعبور( المادة ۱۲۲١ ج4/ ۱۶۸) تحت الفصل الرابع في بيان حق المرور)۔
وفيه : ومن له نهر يجرى في ارض غيره فاراد رب الأرض منع الاجراء فليس ذلك اھ( المادة: ١۲٣٢ ج۴/ ۱۷۳ تحت الفصل الرابع ، من جزء الباب الثالث )۔
اذا کان لواحد حق المرور فى معین فاحدث صاحب العرصة بناء على هذا الممر باذن صاحب حق المرور فقد سقط حق مروره فثبت بهٰذا انه اذا لم يكن باذن صاحب حق المرور فلم يسقط حق مروره( شرح المجلة حاج ، صفحہ: ۱۷۰، المادة ١۲۲۷ تحت الفصل الرابع في بيان حق المرور والمجرى والمسيل.)۔