نکاح

چودہ سالہ لڑکی کا از خود نکاح کرنا

فتوی نمبر :
83879
| تاریخ :
2025-07-02
معاملات / احکام نکاح / نکاح

چودہ سالہ لڑکی کا از خود نکاح کرنا

میں 14 سال کی بالغ لڑکی ہوں۔ میں اپنے نفس سے لڑ رہی ہوں اور حرام چیزوں سے بچنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ اپنی ایمان کی حفاظت کے لیے نکاح کرلوں، لیکن میرے والدین میری عمر کی وجہ سے راضی نہیں۔
کیا اسلام میں اگر لڑکی بالغ ہو اور اس کی نیت پاک ہو تو اس کا نکاح کرنا جائز ہے؟
کیا میں دین کی حفاظت کے لیے یہ فیصلہ خود سے لے سکتی ہوں؟
رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ نے انسان کو فطری جذبات کی تسکین اور معاشرے کو پاکیزگی کوبرقراررکھنے کے لیے نکاح کو جائزاورحلال راستہ قرار دیا ہے۔ قرآن و حدیث میں جہاں نکاح کی ترغیب دی گئی ہے، وہیں والدین کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ اپنی بالغ اولاد کے نکاح میں بلا وجہ تاخیر نہ کریں۔
اگر کوئی لڑکی یا لڑکا بالغ ہو چکا ہو اور اس میں نکاح کی شرعی ذمہ داریاں نبھانے کی صلاحیت موجود ہو ، تو نکاح کرنا اس کے لیے مستحب اور بعض حالات میں واجب ہو جاتا ہے، خاص طور پر جب گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو۔
اسی طرح اگر والدین بلا وجہ نکاح میں تاخیر کریں اور اس کی وجہ سے اولاد کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو ایسی صورت میں صرف اولاد ہی گناہ گار نہ ہوگی بلکہ والدین بھی اس گناہ میں شریک ہوں گے؛ کیونکہ انہوں نے ناحق روک کر گناہ کا راستہ کھولا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه، إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد عريض. «سنن الترمذي» (2/ 380)"“
جب تمہارے پاس ایسا شخص نکاح کا پیغام لے کر آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس کا نکاح کر دو، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پھیل جائے گا۔”
لہٰذا، اگر سائلہ (جو کہ بالغہ ہے) اپنی پاکدامنی اوردین کی حفاظت کی خاطر نکاح کرنا چاہتی ہےاور وہ نکاح کے تقاضوں اورذمہ داریوں کوبھی سمجھتی ہے، تواس کا یہ ارادہ شرعاً بالکل جائز اور پسندیدہ ہے۔ والدین پر لازم ہے کہ ایسے موقع پر بلاوجہ نکاح سے انکار نہ کریں۔ تاہم نکاح نہایت اہم اور نازک فیصلہ ہے، جو محض وقتی جذبات یا دباؤ سے نہیں، بلکہ تدبر، مشورے، اور ذمہ داری کی مکمل سمجھ بوجھ کے ساتھ کیاجاتاہے۔ فقہ حنفی میں اگرچہ ولی کی اجازت کو نکاح کی شرطِ صحت نہیں قرار دیا گیا، لیکن ولی (یعنی والدین) کی رضامندی کو پسندیدہ اور حکمت پر مبنی قرار دیا ہے، اور عمومی حالات میں نکاح والدین کی مشاورت اور رضا کے ساتھ ہی کرنا زیادہ بہتر اور بابرکت ہوتا ہے۔کیونکہ والدین کا تجربہ، دینی اوردنیوی معاملات میں بصیرت اور خیرخواہی پرمبنی ہوتاہے ۔لہٰذا ، نکاح کے معاملہ میں سائلہ کا جذبہ بلاشبہہ قابلِ قدر ہے، لیکن نکاح جیسااہم فیصلہ والدین کی مشاورت اور خوش دلی کے بغیرکرنےسےگریزکریں تاکہ آئندہ ازدواجی زندگی میں اعتماد، سکون، اور خاندانی ہم آہنگی پیدا ہوسکے۔اوراس کے لیے اپنے والدین سے محبت، نرمی اور حکمت کے ساتھ بات کریں۔اورکوشش کریں کہ وہ نکاح پرراضی ہو جائیں ،اس کام کے لیے قریبی سمجھدار رشتہ دار یا کسی عالمہ خاتون سے مدد لے کر بھی بات کی جا سکتی ہے۔دعا، صبر، اور حکمت کے ساتھ چلیں ، اللہ تعالیٰ، ان شاء اللہ ضرور خیر کا دروازہ کھولے گا۔اس دوران اپنے جذبات پر قابو رکھیں، پردہ اور حیا کااہتمام کریں، نوافل، دعا، اور استغفار کو اپنا معمول بنائیں، اور والدین کے لیے بھی ہدایت اور نرمی کے ساتھ دل بدلنے کی دعا کرتی رہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن الترمذي» : عن علي بن أبي طالب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: " يا علي، ‌ثلاث ‌لا ‌تؤخرها: الصلاة إذا أتت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا»(3/ 379)
و فی شعب الإيمان للبیھقی» : عن أبي سعيد وابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
«من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه ‌فإن ‌بلغ ‌ولم ‌يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه.(6/ 401 ت زغلول)
و فیہ ایضا» :عن عمر بن الخطاب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:‌مكتوب ‌في ‌التوراة من بلغت له ابنة اثنتي عشرة سنة فلم يزوجها فركبت إثما فإثم ذلك عليه».(6/ 402 ت زغلول)
و فی فيض القدير» : مكتوب في التوراة من بلغت له ابنة اثنتي عشرة سنة فلم يزوجها فأصابت إثما) يعني زنت فإثم ذلك عليه لأنه السبب فيه ‌بتأخير ‌تزويجها المؤدي إلى فسادها. وذكر الاثنتي عشرة سنة لأنها مظنة البلوغ المثير للشهوة۔(6/ 3)
و فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح» : فإنما إثمه على أبيه) أي: ‌جزاء ‌الإثم ‌عليه ‌لتقصيره وهو محمول على الزجر والتهديد للمبالغة والتأكيد، قال الطيبي رحمه الله: أي جزاء الإثم عليه حقيقية ودل هنا الحصر على أن لا إثم على الولد مبالغة لأنه لم يتسبب لما يتفادى ولده من أصابه الإثم.»(5/ 2064)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83879کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات