اسلام علیکم!
میں ۱۸ سال کی ہوں اور پچھلے ۵ سال سے ایک لڑکے کے ساتھ رلیشن میں ہوں۔ ہم دونو ں نکاح کرنا چاہتے ہیں لیکن میرے پیرنٹس نہیں مان رہے لڑکا civil engineering کر رہا ہے اور اسکی فیملی بھی سٹیبل ہے۔ اسکے پیرنٹس کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں اُس کو اب کسی صورت میں نہِیں چھوڑ سکتی اور میں پوری کوشش کر چکی ہوں اپنے والدین کو منانے کی لیکن میرے والدین مجھے نہیں سمجھ رہے۔ میں اکلوتی ہوں اِس لئے میں اُن کو چھوڑ بھی نہیں سکتی۔ اب ہم نے court marriage کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن میں نے رخصتی کے لئے مزید ایک سال مانگا ہے۔ ہم نکاح صرف اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ہمارا رشتہ حلال ہو جائے۔ اور اِس میں لڑکے کے والدین کی مرضی شامل ہے۔ میرے والد بول رہے ہیں کہ لڑکے کے والد جماعتِ اسلامی میں ہیں اور وہ سٹیبیل نہیں ہے اس لئے اُن کو اس رشتے سے مسئلہ ہے جب کے لڑکا جماعتِ اسلامی میں نہیں ہے اور اسکا کوئی ارادہ بھی نہیں ہے جماعتِ اسلامی میں شامل ہونے کا اور اس کے والد ساری ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔ میرا فیصلہ ٹھیک ہے؟
سائلہ کے لئے والدین کی مرضی کے خلاف کورٹ میرج کرنا تو درست نہیں اس طرح کے نکاح کے نتائج بھی عموما بہت برے نکلتے ہیں اس لئے سائلہ یہ کو شش کرے کہ والدیں کو اعتماد میں لیکر آئندہ کی زندگی کا فیصلہ کرے تا کہ آئندہ کی زندگی پرسکون بنے تاہم اگر مذکور لڑکا سائلہ کے جوڑ کا ہو تو سائلہ کے والدین کو بھی چاہیئے کہ بلا کسی معقول عذر کے اس رشتے کو مسترد کر نے کے بجا ئے بیٹی کی رضامندی کا لحاظ رکھتے ہو ئے اس کو قبول کریں ۔