کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ساتھی آپس میں ولی بال یا کرکٹ کھیلتے ہیں ، اگر ہم اس پر شرط نہیں لگاتے، تو کھلاڑی صحیح طرح نہیں کھیلتے، اس لئے ہم نے ایک طریقہ تجویز کیا ہے کہ جو ٹیم ہار جائے اس ٹیم کے ہر کھلاڑی سے دس روپے لیتے ہیں، اور ان پیسوں کو ایک آدمی کے پاس جمع کر لیتے ہیں، جن سے ضرورت کے وقت کھیل کا سامان وغیرہ خرید لیتے ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ شریعت کی روشنی میں ہمارا تجویز کردہ طریقہ درست ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں ہے تو کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ ہم قمار سے بھی بچ جائیں اور آپس میں صحیح طرح کھیل بھی سکیں ، کیونکہ جب اس طرح پیسے آپس میں لگاتے ہیں تو پیسوں کی خاطر کھلاڑی محنت اور شوق سے کھیلتے ہیں ۔
دونوں طرف سے رقم لگا کر کرکٹ یا کوئی بھی دوسرا کھیل کھیلنا شرعاً ناجائز اور جوا ہے، اس لئے کرکٹ کھیلنے کے لئے مذکور تجویز کردہ طریقہ سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر کھیل میں شمولیت کی فیس تمام کھلاڑیوں پر رکھی جائے اور اس رقم پر منتظمین کو مالک بنا دیا جائے، اس کے بعد اگر کھیل میں کوئی اچھی کارکردگی دکھائے اور منتظمین اس رقم سے اس کو انعام دے دیا کریں ۔ تو اس کا اسے اختیار ہوگا اور یہ صورت شرعاً بھی جائز ہے۔
ففي الدر المختار : (إن شرط المال ) في المسابقة (من جانب واحد وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لأنه يصير قمارا اھ (6/ 403)۔
وفي حاشية ابن عابدين:(قوله من جانب واحد) أو من ثالث بأن يقول أحدهما لصاحبه إن سبقتني أعطيتك كذا، وإن سبقتك لا آخذ منك شيئا أو يقول الأمير لفارسين أو راميين من سبق منكما فله كذا، وإن سبق فلا شيء له اختيار وغرر الأفكار (قوله من الجانبين) بأن يقول إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي فلي عليك كذا زيلعي اھ (6/ 403)۔