کچھ عرصہ قبل میں نے" olymp" ٹریڈ پلیٹ فارم میں شمولیت اختیار کی،جہاں میں اس بات کا اندازہ لگاتا ہوں کہ ایک یا دو منٹ بعد قیمت گرے گی یا بڑھے گی،اگر میرا اندازہ درست ہو تو مجھے انویسٹ کردہ رقم کا پچاسی فیصد نفع ملتا ہے اور اگر غلط ہو تو میں اپنی انویسٹ کردہ رقم کھو بیٹھتا ہوں،برائے مہربانی میری راہنمائی کریں کہ کیا یہ حلال ہے؟ اور اسلام میں جائز ہے؟
سوال میں مذکور پلیٹ فارم کی مکمل تفصیل اور طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی گئی تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم اگر مذکور پلیٹ فارم میں رقم لگانے کے بعد ,محض کسی چیز کی قیمت بڑھنے یا گھٹنے کے متعلق اندازہ درست یا غلط ہونے کے ساتھ نفع و نقصان مشروط ہو تو یہ صورت جوئے اور قمار کی ہے جو کہ شرعاً جائز نہیں،جس سے اجتناب لازم ہے۔
قال اللہ تعالی : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْأَنْصَابُ وَ الْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ [المائدة :۹٠]-
و فی مصنف ابن أبي شيبة : عن ابن سيرين ، قال : «كل شيء فيه قمار فهو من الميسر» (4/ 483)-
و فی أحكام القرآن للجصاص ط . العلمية : ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار و أن المخاطرة من القمار ; قال ابن عباس : إن المخاطرة قمار و إن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال و الزوجة، و قد كان ذلك مباحا إلى أن ورد تحريمه . (1/ 398)-
و فی الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار) : (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، و سمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ، و يجوز أن يستفيد مال صاحبه و هو حرام بالنص(6/ 403)-