بیمہ پالیسی کاشرعی حکم کیا ہے ؟
واضح ہو کہ مروجہ بیمہ پالیسی (انشورنس ) سود قمار اور غرر جیسے ناجائز امور پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز وحرام اور گناہ کبیرہ ہے ، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ، البتہ اس کا جائز متبادل بھی پایا جاتا ہے یعنی تکافل ، لہذا جو تکافل کمپنیاں مستند مفتیان کرام پر مشتمل شریعہ بورڈکی نگرانی میں وقف اور وکالہ وغیرہ کی بنیاد پر کام کررہی ہوں ، اور آپ کو ان مفتیان کرام پر اعتماد ہو تو ان تکافل کمپنیوں سے تکافل پالیسی لینا درست ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ : یایّھا الذین امنوا اتّقوا اللہ وذرُوا ما بقِیَ من الرّبٰوا ِان کنتم مؤمنین فاِن لم تفعلُوا فاذنوا بحربٍ منّ اللہ ورسولہ (سورۃ البقرہ آیۃ 278 ) ۔
وفی ردالمحتار : تحت (قولہ لانّہ یصیر قمارا ) لأن القمار من القمر الذی یزداد تارۃ وینقص اخری ، وسمی القمار قماراً لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذھب مالہ الی صاحبہ ویجوز أن یستفید مال صاحبہ وھو حرام بالنص ، ولا کذلک اذ شرط من جانب واحد لأن الزیادۃ والنقصان لاتمکن فیھا بل فی أحدھما تمکن الزیادۃ ، وفی الاٰخر لانتقاص فقط فلاتکن مقامرۃ لأنھا مفاعلۃ منہ زیلعی اھ (ج6 ص 403 کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع ) ۔
وفی بدائع الصنائع : نھی رسول اللہ ﷺ عن بیع فیہ غرر وبیان تمکن الغرر أن الغرر ھو الخطر و فی ھذا البیع خطر من وجوہ احدھما فی اصل المعقود علیہ الخ ( ج 5 ص 163 کتاب البیوع فصل وأما شرائط الصحۃ ط سعید ) ۔