محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم!
برائے کرم مندرجہ ذیل مسئلہ میں ہماری راہ نمائی فرمادیں۔
(۱) مسئلہ یہ ہے کہ زید کی گاڑی نے بکر کی گاڑی کو ٹکر مار دی۔ یہ دونوں گاڑیاں دبئی میں ٹکرائی تھیں۔ پولیس نے تحقیق کی کہ قصور وار کون ہے؟، چونکہ زید کی غلطی تھی اس لئے قصور وار وہی ٹھہرایا گیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ زید بکر کی گاڑی کو مرمت کرا کے دے۔
(۲) زید نے چونکہ اپنی گاڑی کی انشورنس اس طرح کرا رکھی تھی کہ اگر زید کی گاڑی سے کسی دوسرے کی گاڑی کو نقصان پہنچتا ہے تو اس گاڑی کی مرمّت پر آنے والا خرچہ بھی انشورنس کمپنی برداشت کرے گی۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ انشورنس کمپنی نہ تور قم زید کے ہاتھ میں دیتی ہے نہ بکر کے ہاتھ میں، بلکہ گاڑی کی مرمّت کرنے والے گیراج کے مالک کو یہ رقم ادا کی جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں مذکورہ طریقہ کار کے مطابق بکر کا اپنی گاڑی کی مرمّت کرانا کیسا ہے ؟ جائز ہے یا ناجائز ہے ؟ اگر ناجائز ہے اور بکر گاڑی کی مرمّت بھی کرا چکا ہے تو ازالہ کی کیا صورت ہو گی ؟
مذکور طریقہ کے مطابق بکر کا اپنی گاڑی کی مرمّت کروانا اور انشورنس کمپنی کا اس کا معاوضہ دینا جائز ہے ۔ بشر طیکہ یہ معاوضہ اس رقم کے برابر یا کم ہو جو زید نے انشورنس کی اس پالیسی میں پریمیم کی صورت میں جمع کرائی ہے۔ تاہم آئندہ کے لئے زید پر بھی لازم ہے کہ اس قسم کی نا جائز پالیسیاں لینے سے احتراز کرے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدۃ: 90 الآیۃ)۔
وفی الشامیۃ: وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ(6/403)۔