السلام علیکم!
مولانا سوال یہ ہے کہ ادھر دوبئی میں ایک بینک ہے، اس میں یہ سسٹم ہےکہ وہ ایک ہزار پینتس (۱۰۳۵) درہم لیتا ہے، اور پینتیس (۳۵) درہم آپ سے چارج کاٹ کر دیتا ہے ،اور آپ نے جو ایک ہزار (۱۰۰۰)درہم جمع کیا ہے، آپ جب چاہیں وہ واپس لے سکتے ہیں، لیکن وہ ہر مہینہ دس لاکھ درہم کا قرعہ (لاٹری) نکالتا ہے، آپ مجھے بتائیے کہ یہ اسلام میں کیسا ہے سود میں آتا ہے یا نہیں؟
سائل نے جو صورت لکھی ہے،یہ بلاشبہ جوئے کی ہی ایک قسم ہے، اس میں شریک ہونا شرعاً ناجائز وحرام ہے، ہاں اگر اس لاٹری اسکیم کا پورا فارمولا اور طریقہ کار متعلقہ بینک سے تفصیلاً معلوم کر کے بھیج دیا جائے تو اس پر مکرر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)-
ففی الدر المختار: وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لأنه يصير قمارا (6/ 403)-
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ (6/ 403) -