کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم نے ایک اس اسکیم شروع کی ہے، جس کا دورانیہ تقریباً تیس ماہ ہوگا،جبکہ اس اسکیم کے ممبران کی تعداد دو سو ہوگی، اور ان ممبران سے روزانہ 67 روپے یا ہر ماہ دو ہزار روپے وصول کیے جائیں گے۔ اس اسکیم پر ہر ماہ بذریعہ قرعہ اندازی موٹر سائیکل کے علاوہ پانچ انعامات بھی دیے جائیں گے، لیکن اگر کوئی ممبر مسلسل تین ماہ اپنی ماہوار قسط جمع نہ کروائے تو اس کی ممبر شب بغیر کسی نوٹس کے ختم کر دی جائے گی، تین ماہ کے بعد بقایا ممبران میں سے ہر ایک کو ایک ایک نئی موٹر سائیکل دی جائےگی، جبکہ جس کے نام قرعہ اندازی میں موٹر سائیکل نکل آئے تو اس کی بقیہ اقساط معاف کر دی جاتی ہیں ۔ ایک اضافی شرط یہ بھی ہے کہ اگر ان ممبران میں سے کوئی بغیر قرعہ اندازی کے موٹر سائیکل لینا چاہے تو اس کو ماہانہ قسط کے علاوہ 1500 روپے مزید جمع کرانے ہونگے۔ پوچھنا یہ ہے کہ یہ اسکیم جائز ہے اور اس کی ممبر شپ حاصل کرنا جائز ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
مذکور اسکیم کئی ایک غیر شرعی امور پر مشتمل کی وجہ سے جائز نہیں۔ (۱)قرعہ اندازی کے ذریعہ حاصل ہونے والی موٹر سائیکل کی قیمت مجہول ہے ۔ (۲) کسی بھی قرعہ اندازی پر موٹر سائیکل نکلنے کی امید سے اگلی قسط جمع کروانا جوئے کو متضمن ہے۔ (۳) تین ماہ قسط جمع نہ کروانے کی صورت میں ممبر شپ کا منسوخ ہو جانا۔ (۴) بغیر قرعہ اندازی کے موٹر سائیکل حاصل کرنے کی وجہ اس کی قیمت سے کہیں زیادہ رقم مبلغ پندرہ ہزار روپے کا لینا وغیرہ ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے یہ معاملہ شرعاً درست نہیں رہتا لہذا اس اسکیم میں شرکت کرنے اور اس کی ممبر شپ حاصل کرنے سے احتراز واجب ہے۔