نکاح

اپنی سوتیلی بیٹی کی ساس سے نکاح کرنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
82922
| تاریخ :
2025-05-22
معاملات / احکام نکاح / نکاح

اپنی سوتیلی بیٹی کی ساس سے نکاح کرنا جائز ہے؟

کیا فرماتے مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ اپنے بڑے بھائی کے وفات ہوجانے کے بعد اپنی بیوہ بھابھی سے نکاح کرلیتاہے اس کی بیوہ بھابھی کے چھ (6) بچے ہیں ، پانچ لڑکیا ں اور ایک لڑکا، یہ بندہ اپنی بیوہ بھابھی کے ساتھ پندرہ (15)سال شادی شدہ زندگی گزار لیتاہے اور اپنی اس زندگی میں چار(4) لڑکیوں کی اور ایک لڑکے کی شادی بھی کروالیتا ہے۔ اب اس کی ایک بیٹی شادی کے لیے رہ جاتی ہے ،جو اس کے بڑےبھائی کی بیٹی ہے ،اس بندہ کی اپنی بھابھی سے شادی کے بعد ایک بچی پیداہوئی ہے، جس کی عمر تقریباً چھ (6) سال ہے اب اس بندہ کی بیوی (اس کی بھابھی)کا بھی انتقال ہوجاتا ہےاور یہ رنڈوا ہوجاتاہے۔اب اس کی جو آخری بیٹی ہے (اس کے مرحوم بھائی کی بیٹی )اس کا غیروں میں رشتہ لگ جاتاہے،ایک لڑکے کے ساتھ ،اس لڑکے کی ماں بھی طلاق یافتہ ہے۔کیا بندہ جہاں اپنے مرحوم بھائی کی بیٹی کا غیروں میں جس لڑکے کو رشتہ دے رہاہے ،اس لڑکے کی ماں سے نکاح کرسکتاہے ؟کیا یہ نکاح شرعی طور پر جائز ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکورشخص کا اپنی ربیبہ (بھائی کی بیٹی) کی ساس کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً جائز ہے۔اس میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ:و احل لکم ما وراء ذلکم الخ (سورۃ النساء آیت نمبر 24)
و فی الدر المختار: أو بنت زوجۃ أبیہ أو إبنہ فحلال (و ) حرم (الکل) مما مر الخ
و فی رد المحتار تحت: (قولہ و أما بنت زوجۃ أبیہ فحلال) و کذا بنت ابنھا بحر قال الخیر الرملی: و لا تحرم بنت زوج الأم و لا أمہ و لا أم زوجۃ الأب و لا بنتھا و لا زوجۃ الربیب و لا زوجۃ الراب الخ (کتاب النکاح فصل فی المحرمات ج: 3 ص: 31 ط: ایچ ایم سعید)
و فی الھندیۃ: لا بأس بأن یتزوج الرجل المرأۃ، و یتزوج ابنہ ابنتھا،أو أمھا الخ (کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان محرمات ج:1،ص: 277 ط: ماجدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82922کی تصدیق کریں
0     33
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات