میں زوجۂ بختی مرحوم اپنی زندگی کے کچھ سخت دن گوش گزار کرنا چاہتی ہوں، آپ ہماری رہنما ئی فرمائیں ، میرے دو (2) بیٹے ہیں ، جس کی ہم نے اپنی زندگی میں شادی کروادی ہے، میں اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ ہوں اس گھر میں جو میرے مرحوم شوہر کا تھا ، جبکہ چھوٹا آٹھ (8) ماہ قبل میرے گھر سے چلا گیا ہے ، اپنے سسرال میں ، میں بوڑھی عورت ہوں، میں بیمار رہتی ہوں ، مجھے ڈاکٹر اور دوائی کی ضرورت ہے جو بڑا بیٹا اپنی کوشش اور محنت سے پورا کررہاہے،اب مہنگائی کا دور ہے اور میری شوگر اور بلڈ پریشر کی مڈیسن پر ماہانہ 22000 ہزار تک خرچہ آتاہے جو بڑے بیٹے کی دسترس سے باہر ہے ، جبکہ چھوٹےبیٹے سے جب پیسہ مانگا تو اس نے انکار کیا ہے ، اور اگلے دن موبائل جو تقریبا 37000 ہزار تک ہے اپنی گھر والی کے لئے لیا ، جب دوبارہ کہا کہ خرچہ دیں ، تب بھی انکار کیا اور اگلے دن فریج خرید لیا ، کیا میرا کوئی حق اپنے چھوٹے بیٹے پر ہے یا نہیں ہے؟شریعت کے مطابق ہماری رہنمائی فرما کر میری زندگی کےسخت دنوں پر نوازش فرمائیں۔
واضح ہو کہ اولاد پر والدین کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہوں یا انہیں مالی تعاون کی سخت ضرورت ہو تو اولاد پر بقدر استطاعت ان کا مالی تعاو ن کرناشرعا ضروری ہے ، استطاعت کے باوجود اس میں کمی کوتاہی سے کام لینا اور ضرورت کے وقت انہیں نظر انداز کر دینا انتہائی درجہ بد بختی اور بد نصیبی کی بات ہے جس پر اولاد کو توبہ و استغفار اور والدین سے معافی مانگنی چاہیئے ۔چنانچہ سائلہ کے بیٹے کا استطاعت کے باوجود والدہ کے علاج معالجہ میں غفلت برتنا اور والدہ کے بار بار کہنے کے باوجود ان کی مدد نہ کرنا بڑی بد بختی اور بد نصیبی کی علامت ہے جس پر اسے والدہ سے دست بستہ معافی مانگنی چاہیئے اورآئندہ دوباہ اس قسم کی غفلت سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
کما فی التنزیل العزیز: وَإِن جَٰهَدَاكَ عَلَىٰٓ أَن تُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَاۖ وَصَاحِبۡهُمَا فِي ٱلدُّنۡيَا مَعۡرُوفٗاۖ [لقمان: 15]
وفی أحكام القرآن للجصاص تحت( قولہ سبحانہ وتعالیٰ: وصاحبهما في الدنيا معروفا) وفي ذلك دليل على أنه لا يستحق القود على أبيه وأنه لا يحد له إذا قذفه ولا يحبس له بدين عليه وأن عليه نفقتهما إذا احتاجا إليه إذ كان جميع ذلك من الصحبة بالمعروف الخ( ج 3، ص 352، ط:سہیل اکیڈمی)۔
وفی الصحيح للبخاري:حدثنا قتيبة بن سعيد: حدثنا جرير، عن عمارة بن القعقاع بن شبرمة، عن أبي زرعة، عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، من أحق الناس بحسن صحابتي؟ قال: (أمك). قال: ثم من؟ قال: (ثم أمك). قال: ثم من؟ قال: (ثم أمك). قال: ثم من؟ قال: (ثم أبوك) الخ (کتاب الادب، باب من احق الناس بحسن الصحبۃ، ج 2، ص 883، ط: قدیمی کتب خانہ)۔
وفی البحر الرائق:(قوله ولأبويه وأجداده وجداته لو فقراء) أي تجب النفقة لهؤلاء أما الأبوان فلقوله تعالى {وصاحبهما في الدنيا معروفا} [لقمان: 15] ، أنزلت في الأبوين الكافرين وليس من المعروف أن الابن يعيش في نعم الله تعالى ويتركهما يموتان جوعا(4/ 223):
وفی الهندية: والأم إذا كانت فقيرة فإنه يلزم الابن نفقتها، وإن كان معسرا، أو هي غير زمنة، وإذا كان الابن يقدر على نفقة أحد أبويه، ولا يقدر عليهما جميعا فالأم أحق الخ ( کتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات، الفصل الخامس فی نفقۃ ذوی الارحام، ج 1،ص 565 ط: ماجدیۃ)
وفیھا ایضاً:قال ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا، أو ذميين قدرا على الكسب، أو لم يقدرا الخ (کتاب الطلاق،الباب السابع عشر، الفصل الخامس فی نفقۃ ذوی الارحام، ج 1،ص 564 ط:ماجدیۃ)۔