نکاح

نکاح کے بعد سٹیج پر سب کے سامنے بیوی کو گلے لگانے اور بوسہ لیناکیسا ہے؟

فتوی نمبر :
82752
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح کے بعد سٹیج پر سب کے سامنے بیوی کو گلے لگانے اور بوسہ لیناکیسا ہے؟

آج کل نکاح کی تقریب کے فوراً بعد دولہا، دلہن کا سب مہمانوں (جن میں مرد و عورت، محرم و غیر محرم سب شامل ہوتے ہیں) کے سامنے، اسٹیج پر دلہن کے ماتھے کا بوسہ لیتا ہے ،گلےلگاتاہے،اس سب کی ویڈیوبھی بن رہی ہوتی ہے۔ کیا شریعت مطہرہ کی رو سے یہ عمل جائز ہے؟ برائے کرم قرآن و حدیث اور فقہ کی روشنی میں واضح اور مدلل فتویٰ جاری فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جانناچاہیے کہ اپنی منکوحہ کے ماتھے کابوسہ لینا،گلے لگانااگرچہ جائزاوردرست ہے مگرنکاح کے بعد اسٹیج پر، مجمع عام میں غیر محرم مرد و عورتوں کے سامنےمنکوحہ کابوسہ لینا،گلے ملنا یا محبت کا اظہار کرنا اوراس سب منظرنامہ کوویڈیوکی صورت میں محفوظ کرنا حیاء کے منافی، اور تہذیبِ اسلامی کے سراسر برعکس مغربی طرزِ زندگی سے متاثرہ رسمِ بد ہے، جو شریعتِ مطہرہ کے وضع کردہ اصولوں کے تناظرمیں سخت ناپسندیدہ اورقابل مذمت ہونے کے ساتھ شرعاً حیاء سوز عمل ہونےکی وجہ سے ناجائزہے، جس سےبہرصورت اجتناب لازم ہے۔
قرآن کریم میں ارشادباری تعالی ہے،
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِیۡعَ الۡفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ۙ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ سورہ النور آیت نمبر 19﴾
ترجمہ: یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔(آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)
رسول کریم ﷺکاارشادمبارک ہے
"‌إن ‌لكل ‌دين ‌خلقا، وخلق الإسلام الحياء"»«سنن ابن ماجه» (5/ 277 ت الأرنؤوط)
ترجمہ:ہر دین کی ایک خصلت ہوتی ہے، اور اسلام کی خصلت حیاء ہے۔
رسول کریم ﷺکاایک اورارشادمبارک ہے:
(إن مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى: ‌إذا ‌لم ‌تستح ‌فاصنع ‌ماشئت). «صحيح البخاري» (5/ 2268)
ترجمہ:جب تم میں حیاء نہ رہے، تو جو چاہے کرو (یعنی پھر کوئی بھی برائی کرنے میں رکاوٹ نہ ہو گی)۔
ارشادمبارک ہے:
«‌ما ‌كان ‌الفحش ‌في ‌شيء ‌إلا ‌شانه»، وما كان الحياء في شيء إلا زانه«سنن الترمذي» (3/ 518)
ترجمہ:فحاشی جس چیز میں ہو اسے عیب دار بنا دیتی ہے، اور حیاء جس چیز میں ہو اسے زینت دے دیتی ہے۔
ارشادمبارک ہے:
أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن من الناس ناسا مفاتيح للخير مغاليق للشر و ‌إن ‌من ‌الناس ‌ناسا ‌مفاتيح ‌للشر مغاليق للخير فطوبى لمن جعل الله مفاتيح الخير على يديه و ويل لمن جعل الله مفاتيح الشر على يديه(الضياء اللامع من صحيح الكتب الستة وصحيح الجامع ص516 بترقيم الشاملة آليا)
ترجمہ:لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو شر کے دروازے کھولنے والے اور خیر کے دروازے بند کرنے والے ہوتے ہیں۔ خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کے ہاتھوں اللہ نے خیر کے دروازے کھولے، اور ہلاکت ہے اس کے لیے جس کے ہاتھوں شرکے دروازے کھلے۔
"‌إن ‌من ‌اعظم ‌الأمانة ‌عند ‌الله ‌يوم ‌القيامة الرجل يفضي إلى امرأته وتفضي إليه ثم ينشر سرها»«سنن أبي داود» (7/ 233 ت الأرنؤوط)
ترجمہ:اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بڑی خیانت یہ ہوگی کہ ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ خلوت کرے اور وہ عورت اس کے ساتھ، پھر وہ (شوہر) اس کی راز کی باتیں عام کر دے۔
اس حدیث میں میاں بیوی کی باہمی پرائیویسی لوگوں کے سامنےعیاں کرنے کو "سب سے بڑی خیانت" کہا گیا ہے۔
لہذااس طرح کے افعال ناصرف بے حیائی کو فروغ دیتے ہیں بلکہ نوجوان نسل کی گمراہی ،نکاح جیسے پاکیزہ بندھن کی روح کو مسخ کرنےاورشرم و حیا کی تعلیم کو تباہ کرنےکاسبب بنتےہیں۔اس لیے تمام اہل اسلام خصوصاً معاشرے کے ذمے دار اورسرکردہ افراد کو چاہیے کہ:اس طرح کی غیر شرعی رسومات کے خلاف آواز بلند کریں، اپنی تقریبات میں سادگی، حیاء اور شرعی حدود کا خیال رکھیں ،مغربی معاشرتی نمونوں کی نقالی سے بچتےہوئےاسلامی تہذیب و حیاء کو فروغ دیں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82752کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات