السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میں بھارت سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ مسلمان لڑکی ہوں۔ حال ہی میں میری انسٹاگرام پر پاکستان کے ایک 18 سالہ لڑکے سے بات چیت شروع ہوئی۔ ایک دن عام سی گفتگو کے دوران اس نے نکاح کی بات کی، اور میں نے اسے ایک مذاق سمجھ کر حامی بھر لی۔ہم نے دو مشترکہ دوستوں کو شامل کیاایک (17 سالہ) نے مولوی'کا کردار ادا کیا، اور دوسرا (اسی عمر کا) گواہ بنا، بات چیت کچھ یوں ہوئی:مولوی نے ہمارے نام اور والد کے نام پوچھے۔ میں نے صرف اپنا نک نیم (انسٹاگرام آئی ڈی) بتایا، والد کا نام ظاہر نہیں کیا۔ مولوی نے مجھ سے نکاح قبول کرنے کا پوچھا، میں نے تین مرتبہ "قبول ہے" کہا۔ پھر اسی طرح لڑکے سے بھی سوالات کیے گئے اور اس نے بھی تین بار "قبول ہے" کہا۔ کچھ گھنٹوں بعد ایک دوست نے بتایا کہ یہ معاملہ مذاق نہیں، بلکہ سنجیدہ ہے اور فوراً خلع(طلاق) لینی چاہیے۔ میں نے اُس لڑکے سے رابطہ کیا ،لیکن وہ انکار کرتا رہا، کہتا ہے کہ وہ میرا انتظار کرے گا اور چاہتا ہے میں بھی اسے چھوڑ نہ دوں۔ میں تین دن سے بار بار کہہ چکی ہوں کہ میں اس تعلق کو ختم کرنا چاہتی ہوں، لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں۔ وہ افسردگی کی باتیں کرتا ہے اور زبردستی رابطے میں رہنا چاہتا ہے۔اب میں اپنے اس عمل پر سخت نادم ہوں اور جاننا چاہتی ہوں کیا یہ نکاح شرعی طور پر معتبر ہے؟میں اس صورتحال کو دینی اعتبار سے کیسے درست کروں؟ میں اللہ تعالیٰ سے کیسے معافی مانگوں؟ براہِ کرم یہ معاملہ خفیہ رکھا جائے، میں نے یہ بات اپنے والدین کو نہیں بتائی۔ میری رہنمائی فرمائیں کہ میں اس گناہ سے کیسے بچ سکتی ہوں اور توبہ کرکے اللہ کی رضا کیسے حاصل کرسکتی ہوں؟
واضح ہوکہ نکاح کے درست انعقاد کے لئے متعاقدین (لڑکا و لڑکی) یا ان کے مقرر کردہ وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا لازم وضروری ہے، اس لئے آئن لائن انٹرنیٹ پر ویڈیو کال یا انسٹاگرام وغیرہ کے ذریعہ نکاح شرعاً درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی بھی قسم کی دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ انڈیامیں ہو اور جس شخص سے نکاح ہوا، وہ پاکستان میں ہو، یعنی جس سے نکاح ہوا ،نہ وہ مجلس نکاح میں موجود ہو اور نہ ہی اس کی طرف سے کوئی وکیل مجلس نکاح میں حاضر ہوا ہو تو مذکور لڑکا لڑکی کی مجلس چونکہ مختلف ہے، اس لئے یہ نکاح منعقدہی نہیں ہوا، لہذا بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تاہم غیرمحرم مردوں سے بے تکلفی اوردوستانہ تعلقات رکھنے کی وجہ سے سائلہ گناہ گارہوئی جس پرفوراًبصدق دل توبہ واستغفار ، اور آئندہ کے لیے غیر محرم مردوں سے انسٹاگرام یا کسی بھی ذریعے سے رابطہ کرنے سے مکمل اجتناب کرنا لازم وضروری ہے۔
کما فی الدر المختار : ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين الخ
وفی رد المحتار تحت: (قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعًا تيسيرًا. الخ (کتاب النکاح ، ج: 3 ، ص: 14 ، ط: ایچ ایم سعید)ـ
وفی الهندية : (ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد، الخ (کتاب النکاح ، ج: 1 ، ص: 269 ، ط: ماجدیۃ)۔